اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

حکومت خود کو کیا سمجھتی ہے؟ سپریم کورٹ سے بڑی خبر آ گئی

datetime 24  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن نیوز ایجنسی ) سپریم کورٹ نے کسان کھاد سبسڈی پیکج توہین عدالت کیس میں نجی کھاد کمپنی کی سبسڈی کی مد میں معاونت کرنے اور آئندہ کے لیے تمام نجی کمپنیوں کی کھاد کے معیار کا کیمیائی تجزیہ کرانے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ کیمیائی تجزیہ پشاور،لاہور اور کراچی کی لیبارٹری کرانے کی ہدایت کر دی جبکہ دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت سمجھتی ہے کہ اس کی بادشاہت ہے ،سبسڈی کا پیسہ حکومت کا نہیں عوام کا ہے،حکومت اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرتی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدحکومت کا ڈیڑھ ارب سبسڈی کی مد میں تقسیم کرنا توہین عدالت ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سر براہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی ، مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی تو نجی کمپنی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے بعد حکومت ہماری کھاد کا کیمیکل ٹیسٹ کرانا چاہتی ہے،ہماری کھاد کے معیار کا ٹیسٹ پہلے ہی ہو چکا ہے،ہماری کھاد کے معیار کے کیمیکل ٹیسٹ کو حکومت نے کہیں بھی چیلنج نہیں کیااس پر حکومتی وکیل ساجد الیاس نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حکومت سبسڈی کی مد میں مالی معاونت لینے والی چاروں کھاد کمپنیوں کا کیمیکل ٹیسٹ کرانا چاہتی ہے۔
تین کھاد کمپنیوں کی کھاد کے معیار کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں،نجی کمپنی بھی لاہور لیبارٹری سے معیار کا ٹیسٹ کرائے،معیار ٹھیک ہوا تو حکومت مالی معاونت کریگی جس پر جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے عوام کے پیسہ کی تقسیم میں بہت فراخدلی دکھائی،حکومت نے اپنے انداز پر غور نہیں کیا،حکومت سمجھتی ہے کہ اس کی بادشاہت ہے ،سبسڈی کا پیسہ حکومت کا نہیں عوام کا ہے،حکومت اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرتی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدحکومت کا ڈیڑھ ارب سبسڈی کی مد میں تقسیم کرنا توہین عدالت ہے، وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت عظمیٰ نے نجی کھاد کمپنی کی سبسڈی کی مد میں معاونت کرنے اور آئندہ کے لیے تمام نجی کمپنیوں کی کھاد کے معیار کا کیمیائی تجزیہ کرانے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ کیمیائی تجزیہ پشاور،لاہور اور کراچی کی لیبارٹری کرانے کی ہدایت کر دی اور کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…