اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

اب ہو گادما دم مست قلند ر ! عمران خان کا فائنل میچ کھیلنے کا فیصلہ

datetime 1  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ حل نہ ہوا تو عوام کو سڑکوں پر نکالیں گے۔ دس فیصد قوم کو سڑکوں پر لاکر دکھائوں گا۔ جولائی کے آخر تک احتساب نہ ہوا تو حکومت نہیں چل سکے گی۔ وزیراعظم کی عدم موجودگی کی وجہ سے آئینی بحران ہے نگران وزیراعظم نہ بنانے سے آئینی خلا پیدا ہوگیا ہے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ کرپٹ لوگوں کا برا وقت آنے والا ہے احتساب ہوگا مک مکا کا ٹائم نہیں ہے ملک کو بچانا ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت دو بحران ہیں ایک پانامہ لیکس اور دوسرا ملی سربراہ نہیں ہے۔ وزیراعظم کی عدم موجودگی کی وجہ سے آئینی بحران ہے اوپن ہارٹ سرجری کے بعد صحت یابی میں وقت لگ سکتا ہے تین سے چھ ہفتے لگ سکے ہین‘ ایسے حالات میں میاں صاحب پر بوجھ ڈالنا ملک اور ان کی ذات کیلئے بھی زیادتی ہوگی قیادت کو پریشر میں بڑے فیصلے کرنا پڑتے ہیں پاکستان میں کئی بحران خارجہ پالیسی کا بھی مسئلہ ہے آئینی بحران مزید بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مستقبل پانامہ لیکس پر منحصر ہے اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ پانامہ لیکس کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ تمام جماعتیں ٹی او آر پر اکٹھی ہیں ۔ حکومت ٹی او آر سے پیچھے ہٹے گی تو ثابت ہو جائے گا وزیراعظم کے بچے کرپٹ ہیں ان کے پہلے بھی متضاد بیانات آچکے ہیں۔ پانامہ لیکس کا معاملہ حکومت نے حل نہ کیا قوم کو سڑکوں پر لائیں گے دس فیصد لوگوں کو سڑکوں پر نکال کر دکھائوں گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتیں ٹی او آر پر کھڑی ہیں متحدہ اپوزیشن کی کوئی جماعت پیچھے نہیں ہٹے گی۔ جو جماعت دوسری طرف جائے گی اس کی سیاسی موت ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہ اکہ ایک سوال پر انوہں نے کہا کہ میرے خیال میں صدارتی نطام بہتر ہے یہ میرا ذاتی خیال ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان پناہ گزین کے معاملے پر آرمی چیف سے ملاقات کروں گا۔ میں سمجھتا ہوں پاکستان میں مارشل لاء نہیں لگے گا۔ مارشل لاء پر بھی لوگ کچھ دیر جشن مناتیہیں لیکن اس سے ادارے کمزور ہوتے ہیں‘ پانامہ لیکس نے موقع دیا ہے کہ ہم ملک کو آگے لے کر جائیں‘ کرپشن کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی صحت یابی کے لئے سب لوگ دعا گو میں بھی ان کیلئے دعاگو ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…