جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

9/11 کے بعدامریکی پاکستان پر حملہ کر دیتے اگر ۔۔۔؟ ایک سینئر سیاستدان کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 28  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے انکشاف کیا کہ 1998 ء میں ایٹمی تجربے کا فیصلہ خالصتاََ سیاسی تھا‘اگر 1998ء میں پاکستان دھماکے نہ کرتا تو 9/11 کے بعد امریکہ پاکستان پر حملہ کر دیتا۔ مشاہد حسین سید کا کہناتھا کہ اس وقت کی حکومت پر بہت زیادہ عالمی دباؤ تھا کہ ایٹمی دھماکے نہ کئے جائیں۔ اس سے پہلے وزیراعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی نے بھی انکشاف کیا تھا کہ بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے سے متعلق وزیراعظم نواز شریف کا فیصلہ غیر متزلزل رہا حالانکہ پاکستان پر عالمی طاقتیں دھماکے نہ کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی تھیں، اس کے باوجود وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہم کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں گے، مسلم دنیا نے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر فخر کا اظہار کیا، پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے مسلم دنیا کو بھی تحفظ کا احساس ہوا، ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان، بھارت کے درمیان کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے اسے کسی بھی نئی جنگ سے بچایا، پاکستان کے جوہری طاقت بننے سے خطے میں طاقت کا توازن پیدا ہوا، اقتصادی ترقی کیلئے بہتر سلامتی کی صورتحال بہت ضروری ہے۔وہ ہفتہ کو سرکاری ٹی وی سے گفتگو کر رہے تھے۔ سعید مہدی نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کو بھارتی ایٹمی جوہری دھماکوں کی اطلاع دی گئی، وزیراعظم نے فوری آرمی چیف سے رابطے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے متعلقہ لوگوں کو جوہری دھماکوں کی تیاری کیلئے کہا، الماتے سے فوری بعدوزیراعظم نے دھماکے کرنے سے متعلق اجلاس طلب کیا، وزیراعظم نے ایٹمی دھماکوں کی تیاری سے متعلق ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے دریافت کیا، وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف سے ملاقات میں واضع کیا کہ ہم دھماکے کریں گے ، وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہم کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں گے، وزیراعظم نے ایٹمی دھماکوں سے قبل کابینہ کو بھی اعتماد میں لیا، ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان پر عالمی طاقتیں دباؤ ڈال رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کلنٹن نے وزیراعظم نواز شریف کو چارمرتبہ ٹیلی فون کیا، وزیراعظم کو امریکہ کی جانب سے مراعات پیشکش کی گئی، وزیراعظم تمام دباؤ کے باوجود دھماکوں کیلئے پرعزم رہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کرنے سے متعلق وزیراعظم نواز شریف کا فیصلہ غیر متزلزل رہا، مسلم دنیا کے پاکستان کے ایٹمی دھماکے کے بعد اس پر فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے مسلم دنیا کو بھی تحفظ کا احساس ہوا، ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان، بھارت کے درمیان کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے اسے کسی بھی نئی جنگ سے بچایا، پاکستان کے جوہری طاقت بننے سے خطے میں طاقت کا توازن پیدا ہوا، اقتصادی ترقی کیلئے بہتر سلامتی کی صورتحال بہت ضروری ہے۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…