اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے انکشاف کیا کہ 1998 ء میں ایٹمی تجربے کا فیصلہ خالصتاََ سیاسی تھا‘اگر 1998ء میں پاکستان دھماکے نہ کرتا تو 9/11 کے بعد امریکہ پاکستان پر حملہ کر دیتا۔ مشاہد حسین سید کا کہناتھا کہ اس وقت کی حکومت پر بہت زیادہ عالمی دباؤ تھا کہ ایٹمی دھماکے نہ کئے جائیں۔ اس سے پہلے وزیراعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی نے بھی انکشاف کیا تھا کہ بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے سے متعلق وزیراعظم نواز شریف کا فیصلہ غیر متزلزل رہا حالانکہ پاکستان پر عالمی طاقتیں دھماکے نہ کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی تھیں، اس کے باوجود وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہم کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں گے، مسلم دنیا نے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر فخر کا اظہار کیا، پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے مسلم دنیا کو بھی تحفظ کا احساس ہوا، ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان، بھارت کے درمیان کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے اسے کسی بھی نئی جنگ سے بچایا، پاکستان کے جوہری طاقت بننے سے خطے میں طاقت کا توازن پیدا ہوا، اقتصادی ترقی کیلئے بہتر سلامتی کی صورتحال بہت ضروری ہے۔وہ ہفتہ کو سرکاری ٹی وی سے گفتگو کر رہے تھے۔ سعید مہدی نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کو بھارتی ایٹمی جوہری دھماکوں کی اطلاع دی گئی، وزیراعظم نے فوری آرمی چیف سے رابطے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے متعلقہ لوگوں کو جوہری دھماکوں کی تیاری کیلئے کہا، الماتے سے فوری بعدوزیراعظم نے دھماکے کرنے سے متعلق اجلاس طلب کیا، وزیراعظم نے ایٹمی دھماکوں کی تیاری سے متعلق ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے دریافت کیا، وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف سے ملاقات میں واضع کیا کہ ہم دھماکے کریں گے ، وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہم کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں گے، وزیراعظم نے ایٹمی دھماکوں سے قبل کابینہ کو بھی اعتماد میں لیا، ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان پر عالمی طاقتیں دباؤ ڈال رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کلنٹن نے وزیراعظم نواز شریف کو چارمرتبہ ٹیلی فون کیا، وزیراعظم کو امریکہ کی جانب سے مراعات پیشکش کی گئی، وزیراعظم تمام دباؤ کے باوجود دھماکوں کیلئے پرعزم رہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کرنے سے متعلق وزیراعظم نواز شریف کا فیصلہ غیر متزلزل رہا، مسلم دنیا کے پاکستان کے ایٹمی دھماکے کے بعد اس پر فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے مسلم دنیا کو بھی تحفظ کا احساس ہوا، ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان، بھارت کے درمیان کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے اسے کسی بھی نئی جنگ سے بچایا، پاکستان کے جوہری طاقت بننے سے خطے میں طاقت کا توازن پیدا ہوا، اقتصادی ترقی کیلئے بہتر سلامتی کی صورتحال بہت ضروری ہے۔
9/11 کے بعدامریکی پاکستان پر حملہ کر دیتے اگر ۔۔۔؟ ایک سینئر سیاستدان کا حیرت انگیز انکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا گیا
-
عمران خان بھٹو
-
لائبہ اعجاز کیس میں نیا موڑ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کی موجیں، نومبر میں مسلسل 3 چھٹیاں ملنے کا امکان
-
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ریکارڈ قائم جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی
-
زلزلے کے جھٹکے
-
صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ابھیشیک شرما کا بڑا ریکارڈ توڑ دیا
-
اپنا گھر سکیم، شہریوں کے لیے قرض کا حصول مزید آسان ہوگیا
-
کراچی : گھر سے 5 افراد کی لاشیں ملنے کا واقعہ : پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا اہم انکشاف
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان
-
شعیب ملک سے شادی کی افواہیں، اداکارہ ونیزہ ستار نے خاموشی توڑ دی
-
اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری
-
ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی



















































