اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کریمنل جسٹس سسٹم ! وزیرداخلہ چھا گئے ، زبردست اعلان کر دیا

datetime 27  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے عدالتوں سے کمزور استغاثہ اور تحقیقات کی وجہ سے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کی سزاؤں کی کم شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے کریمنل جسٹس سسٹم کو بہتر بنانے کی منظوری دیدی ہے۔ اس ضمن میں چوہدری نثار علی خان نے وفاقی سیکرٹری داخلہ کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی تجویز پر فیڈرل کور گروپ تشکیل دینے کی منظوری دیدی ہے۔ یہ کور گروپ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور پاکستان میں کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہو گا۔ اس فیڈرل کور گروپ کی صوبائی سطح پر ذیلی کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی، یہ ذیلی کمیٹیاں پاکستان کے کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کیلئے وسیع بنیادوں پر اتفاق رائے سے حل کیلئے فیڈرل کور گروپ کو اپنی سفارشات پیش کریں گی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ تشدد موجودہ کریمنل جسٹس سسٹم میں پائی جانے والی خامیوں کا تقاضا کرتا ہے کہ ریاست کی جانب سے دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کے قلع قمع کیلئے سخت سزائیں یقینی بنائی جائیں۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ تیز ترین اور مدلل اصلاحات کیلئے چار بنیادی پہلوؤں پر اتفاق رائے ہونا چاہئے جبکہ پولیس، استغاثہ، عدالتیں، قید میں تصحیح، پیرول اور پروبیشن کو ترجیحی بنیادوں پر لیا جانا چاہئے۔ وزیر داخلہ نے نیکٹا کو ہدایت کی کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کے مینڈیٹ کے مطابق جسٹس سسٹم کے اہم مسئلہ کے حوالہ سے کریمنل جسٹس سسٹم میں جامع اصلاحات کیلئے مربوط کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل کور گروپ کریمنل جسٹس سسٹم میں عدلیہ اور غیر ملکی اداروں کی مدد سے ہونے والے کام کا بھی جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہداف کم سے کم وقت میں حاصل کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…