اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

افغان انٹیلی جنس کے 6 ایجنٹ گرفتار، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 26  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان سے افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے 6 خفیہ ایجنٹ گرفتاروزیر داخلہ بلوچستان کی اعلیٰ سیکورٹی حکام کے ساتھ پریس کانفرنس‘افغان ایجنٹ بلوچستان میں دہشت گردی، بد امنی، قتل و غارت گری کاٹارگٹ لے کر آئے تھے۔ سیکورٹی حکام نے گرفتار اہلکاران کے اعترافی بیان کی وڈیو جاری کر دیئے، وڈیو میں افغان ایجنٹ خونریز کارروائیوں کا اعتراف کرتے نظر آئے۔گرفتار اہلکاروں میں سے ایک نے بتایا کہ ہمیں ہر ماہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے دیئے جاتے ہی اور ہمیںافغان ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی (NDS)والے آرڈر دیتے ہیں کہ کوئٹہ میں بد امنی پھیلاﺅں، گرفتار افراد میں، نور خان،محمود خان، عصمت اللہ ولد مہمند گل وغیرہ شامل ہیں۔عصمت اللہ ولد مہمند گل نے اپنے اعترافی بیان میں بتا یا کہ پاکستانی ادارے نادرکے اہلکار نے 40 ہزار روپے لے کر مجھے شناختی کارڈ بنا کر دیا۔ مجھے پاکستان کی بدنامی قتل کے ٹاسک دیئے۔ ہم افغان مہاجر کیمپوں میں رہتے ہیں۔ افغان انٹیلی جنس کے لوگ ہم سے ملاقات کرتے ہیں، میں 40 افراد کو شہید کرنے کا اعتراف کرتا ہوں‘کرزئی دور حکومت سے پاکستان میں ہوں۔افغانی ہوں اور ہلمند کا رہائشی ہوں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…