پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ اور خطے میں استحکام کیلئے ہے، سیکرٹری خارجہ

datetime 1  اپریل‬‮  2016 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)وزارت خارجہ کے سیکریٹری اعزاز احمد چوہدری نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر محفوظ اور دفاعی مقاصد کے لیے قرار دیا ہے۔ اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کبھی بھی جوہری حادثہ پیش نہیں آیا جبکہ اس کی حفاظت کے بھی موثر ترین انتظامات کیے گئے ہیں، اس لیے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی بھی قسم کے خدشات نہیں ہیں۔ ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں پاکستانی سفارت خانے میں پریس بریفنگ کے دوران اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جوہری تن یبات کے غیر محفوظ ہونے کے حوالے سے تاثر حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری پاکستانی وفد کے ہمراہ نیو کلیئر کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکا میں موجود ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی جوہری تنصیبات صرف محفوظ ہی نہیں ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کے محفوظ ہونے کو تسلیم کیا گیا ہے اور پاکستان ان کی حفاظت کے حوالے سے بھر پور اقدامات کرتا ہے۔ اعزاز چوہدری نے بتایا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے عالمی سطح پر جوہری تنصیبات میں 2734 حادثات ریکارڈ کیے ہیں جن میں سے 5 حادثات ہندوستان میں ہوئے تاہم پاکستان میں 40 سال سے جاری جوہری پروگرام میں ایک بھی حادثہ یا حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مختصر نشانے کے میزائل اور چھوٹے جوہری ہتھیاروں کو ٹیکٹیکل یا جنگی ہتھیار کہنا درست نہیں ہے۔ میزائل سسٹم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دور یا قریب تک نشانہ بنانے والے میزائل کسی بھی جارحیت کو رکنے کے لیے ہیں، ہم جنگ سے تحفظ چاہتے ہیں۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ ان ہتھیاروں کو جنگی ہتھیار کہنا درست خیال نہیں ہے، یہ صرف طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ہیں اور ان کا مقصد صرف اور صرف دفاع ہے۔ جوہری پروگرام کے حوالے سے انہوں نے پاکستان کے موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ یہ قابل اعتماد اور کم سے کم دفاعی صلاحیت کے لیے ہیں۔ پاکستان میں ان ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے فیصلے کا اختیار کسی فیلڈ کمانڈر کے پاس ہونے کی میڈیا قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ تمام جوہری ہتھیار اس وقت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تمام حساس مقامات پر ریڈیشن مانیٹر لگائے گئے ہیں جبکہ ملک میں مزید مانیٹرز لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…