جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ اور خطے میں استحکام کیلئے ہے، سیکرٹری خارجہ

datetime 1  اپریل‬‮  2016 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)وزارت خارجہ کے سیکریٹری اعزاز احمد چوہدری نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر محفوظ اور دفاعی مقاصد کے لیے قرار دیا ہے۔ اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کبھی بھی جوہری حادثہ پیش نہیں آیا جبکہ اس کی حفاظت کے بھی موثر ترین انتظامات کیے گئے ہیں، اس لیے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی بھی قسم کے خدشات نہیں ہیں۔ ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں پاکستانی سفارت خانے میں پریس بریفنگ کے دوران اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جوہری تن یبات کے غیر محفوظ ہونے کے حوالے سے تاثر حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری پاکستانی وفد کے ہمراہ نیو کلیئر کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکا میں موجود ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی جوہری تنصیبات صرف محفوظ ہی نہیں ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کے محفوظ ہونے کو تسلیم کیا گیا ہے اور پاکستان ان کی حفاظت کے حوالے سے بھر پور اقدامات کرتا ہے۔ اعزاز چوہدری نے بتایا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے عالمی سطح پر جوہری تنصیبات میں 2734 حادثات ریکارڈ کیے ہیں جن میں سے 5 حادثات ہندوستان میں ہوئے تاہم پاکستان میں 40 سال سے جاری جوہری پروگرام میں ایک بھی حادثہ یا حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مختصر نشانے کے میزائل اور چھوٹے جوہری ہتھیاروں کو ٹیکٹیکل یا جنگی ہتھیار کہنا درست نہیں ہے۔ میزائل سسٹم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دور یا قریب تک نشانہ بنانے والے میزائل کسی بھی جارحیت کو رکنے کے لیے ہیں، ہم جنگ سے تحفظ چاہتے ہیں۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ ان ہتھیاروں کو جنگی ہتھیار کہنا درست خیال نہیں ہے، یہ صرف طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ہیں اور ان کا مقصد صرف اور صرف دفاع ہے۔ جوہری پروگرام کے حوالے سے انہوں نے پاکستان کے موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ یہ قابل اعتماد اور کم سے کم دفاعی صلاحیت کے لیے ہیں۔ پاکستان میں ان ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے فیصلے کا اختیار کسی فیلڈ کمانڈر کے پاس ہونے کی میڈیا قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ تمام جوہری ہتھیار اس وقت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تمام حساس مقامات پر ریڈیشن مانیٹر لگائے گئے ہیں جبکہ ملک میں مزید مانیٹرز لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…