منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

سعودی عرب اور ایران بات چیت کیلئے تیار ہیں ، ایک دوسرے کو دشمن نہیں سمجھتے ،نواز شریف

datetime 19  جنوری‬‮  2016 |

تہران (نیوزڈیسک)وزیر اعظم محمد نواز شریف نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے اپنے دورے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ دونوں ممالک سے بات چیت نے ہمیں حوصلہ دیا ہے، سعودی عرب اور ایران بات چیت کیلئے تیار ہیں ، دونوں ملک ایک دوسرے کو دشمن نہیں سمجھتے ، پاکستان میزبانی کرنا چاہتا ہے ایران آمادہ ہے ، سعودی عرب سے بات کرینگے ، ایران نے تنازعہ کے سلسلے میں فوکل پرسن مقرر کر نے پر اتفاق کیا ہے ٗ سعودی عرب سے بھی ایسا کر نے کا کہیں گے جبکہ پاکستان بھی اپنافوکل پرسن مقرر کریگا ٗ سعودی عرب اور ایران کے تنازعے کا خاتمہ مقدس مشن ہے ٗ کسی کے کہنے پر نہیں خود مصالحت کرانے کا فیصلہ کیا ٗ کشیدگی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے ٗ سعودی عرب اور ایران کو دہشتگردی کے خطرے کا ادراک ہے ٗ انتہا پسندی اور دہشتگردی بڑا چیلنج ہے جس کا ملکر مقابلہ کر نا ہوگا ۔منگل کو ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات کے بعد اپنے دورے کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہاکہ سعودی عرب اور ایران کے تنازعے کا خاتمہ مقدس مشن ہے اور پاکستان اس حوالے سے اپنا فرض نبھا رہا ہے دونوں برادرز ممالک نے کشیدگی ختم کر انے کیلئے پاکستان کی کوششوں کوسراہا ہے ۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ سعودی عرب اور ایران کے دورے سے بہت زیادہ مطمئن ہوں ہم کسی کے کہنے پر مصالحت نہیں کرارہے ہیں اور یہ فیصلہ ہم نے خود کیا ہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ دونوں ممالک سے بات چیت نے ہمیں حوصلہ دیا۔سعودی عرب اور ایران کو دہشتگردی کے خطرے کا ادراک ہے ٗ پاکستان نے1997 ء میں شاہ عبد اللہ اوراس وقت کے ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی کی ملاقات کرائی ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دو بھائی لڑیں تو ان کی صلح کراؤ ۔وزیر اعظم نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کو دشمن نہیں سمجھتے دونوں ملک بات چیت کیلئے تیار ہیں ، پاکستان میزبانی کرنا چاہتا ہے ، ایران اس پر آمادہ ہے سعودی عرب سے بات کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران سے فوکل پرسن مقرر کر نے کا کہا ہے اور ایران نے سعودی عرب کے ساتھ تنازعہ کے لئے فوکل پرسن مقرر کر نے پر اتفاق کیا ہے سعودی عرب سے بھی کہا جائیگا کہ وہ فوکل پرسن مقرر کرے جبکہ پاکستان بھی اس معاملے پر اپنا فوکل پرسن مقرر کریگا۔ نواز شریف نے کہاکہ مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور یکجہتی ہونی چاہیے وزیر اعظم نے کہاکہ انتہا پسندی اور دہشتگردی بڑا چیلنج ہے جس کا ملکر مقابلہ کر نا ہوگا وزیر اعظم نے کہاکہ نازک وقت میں پاکستان کیلئے مصالحتی کر دار ادا کر نا فخر کی بات ہے پہلے بھی پاکستان اپنا فرض نبھاتا رہا ہے ۔بعد ازاں وزیر اعظم عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کیلئے ڈیووس روانہ ہوگئے ایرانی وزیر داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے وزیر اعظم کو رخصت کیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…