جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وزارت پانی و بجلی کی ناقص کارکردگی نے حکومتی دعوؤں کا پول کھول دیا

datetime 14  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیو زڈیسک)وزارت پانی و بجلی کی ناقص کارکردگی نے حکومتی دعوؤں کا پول کھول دیا ،24منصوبوں پر کام انتہائی سست روی کا شکار ہے جبکہ صرف دو منصوبے مستقبل قریب میں مکمل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 24منصوبے مکمل کرلئے جائیں تو 32500 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جو ملک سے توانائی بحران کے خاتمے کیلئے کافی ہے ۔ذرائع کے مطابق وزارت پانی و بجلی کے چوبیس منصوبوں کی تفصیلی رپورٹ حیران کن ہے جس میں مستقبل قریب میں صرف دو منصوبے مکمل ہورہے ہیں ، دستاویزات کے مطابق چوبیس منصوبوں کی اب تک کی کارکردگی مایوس کن ہے اور مستقبل قریب میں صرف696 میگاواٹ کا نیلم جہلم منصوبے اور 1410 میگاواٹ کا تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ 2017ء میں مکمل ہوں گے جبکہ باقی تمام منصوبے دور دور تک مکمل ہونے نظر نہیں آرہے ہیں۔ وزارت پانی و بجلی کی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان چوبیس منصوبوں میں سندھ اور بلوچستان میں ایک بھی منصوبہ نہیں لگ رہا اور دوسری طرف حکومت ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں بھاشا ، داسو ،اکوڑھی ، پتن ڈیمز پر مالی مشکلات کا شکار ہے ، اس کے علاوہ چترال کا گولن گول منصوبہ جس پر ابھی صرف 35فیصد کام ہوا ہے آج کل اس پر بھی کام بند پڑا ہے جبکہ دیگر منصوبوں پر ابھی تک صرف فزیبلیٹی رپورٹس تیار ہیں جبکہ کچھ منصوبوں کے پی سی ون منظوری کے منتظر ہیں ، ان منصوبوں میں 12خیبرپختونخوا ، پانچ گلگت بلتستان اور چار پراجیکٹس پنجاب میں شروع ہورہے ہیں ، ان منصوبوں میں دریائے سندھ پر بننے والا 3600 میگاواٹ کا کالا باغ ڈیم میں بھی شامل ہے۔ دوسری جانب توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مذکورہ منصوبوں پر توجہ دے تو 32500 میگاواٹ بجلی قومی سسٹم میں شامل ہو گی اور پاکستان کو توانائی بحران سے نجات مل جائے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…