جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

زلزلہ زدہ علاقوں میں برفباری،متاثرین کی مشکلات ناقابل برداشت ہوگئیں

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوز ڈیسک)خیبر پختونخوا میں بارش اور برف باری کا سلسلہ وقفے جاری ہے ،جس کے باعث متاثرین زلزلہ کی مشکلات ناقابل برداشت ہونے لگی ہیں ،ملالہ یوسف زئی نے امداد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم سے مزید کچھ کرنے کی اپیل کی ہے۔زلزلہ متاثرہ علاقوں میںبارش اور برفباری سے پیدا مشکلات کے باوجود پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری ہے تاہم صحت کی سہولیات سخت موسم کی وجہ سے ناکافی ثابت ہورہی ہیں ،مالاکنڈ سمیت زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں آج بھی برفباری جاری رہنے کا امکان ہے جس کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔زلزلہ زدہ علاقوں میں بارش اور برف باری کے باعث متاثرین بھیگے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں ، منفی درجہ حرارت نے متاثرین کی مشکلات بڑھادی ہیں۔ بچے اور بڑے ، سانس اور سینے کے انفیکشن ، نزلہ ، زکام ، کھانسی اور جلدی امراض کا شکار ہورہے ہیں جبکہ زلزلہ متاثر علاقوں کے اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ادھر محکمہ موسمیات نے آج سے جمعہ تک ملک کے بالائی اور مغربی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور پہاڑوں پر برف باری کی پیشگوئی کی ہے ، زلزلہ زدگان کے لیے حکومتی امداد ناکافی ہے،متاثرین کھلےاآسمان تلے پڑے ہیں۔نوبیل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ یوسف زئی نے کہاہے کہ زلزلہ زدگان کے لیے حکومتی امداد ناکافی ہے،بےگھرمتاثرین کھلےاآسمان تلے پڑے ہیں۔ملالہ یوسف زئی نےکہاہے کہ شدید بارشوں نے زلزلہ متاثرین کے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ شانگلہ اورسوات کے زلزلہ متاثرین کی خبرلیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…