بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سلمان لاشاری قتل؛ ایس ایس پی اپنے ملزم بیٹے سلمان ابڑو کو لے کر فرار

datetime 19  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی( آن لائن ) ایس ایس پی غلام سرور، سلمان لاشاری کے قتل کے الزام میں گرفتار اپنے بیٹے سلمان ابڑو کو پیٹی بند بھائیوں کی جانب سے وی آئی پی پروٹوکول دلوانے کے بعد بیٹے کو سرکاری موبائل میں لے کر فرار ہو گئے۔ مےڈےا رپورٹس کے مطابق پولیس نے سلمان لاشاری کے قتل کے ملزم سلمان ابڑو کو عدالت میں پیشی کے بعد پہلے وی آئی پی پروٹوکول دیا اور پھر پولیس موبائل میں بٹھا کر پیزا کھلایا گیا۔سلمان ابڑو کے ساتھ پیشی پر عدالت آئے قتل کے دیگر ملزمان کی جانب سے پولیس اہلکاروں کی جانب سے دوہرے معیار پر احتجاج کیا گیا اور کہا گیا کہ سلمان ابڑو بھی ہماری طرح ملزم ہے لیکن اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا تاہم لاک اپ افسر نے دیگر ملزمان کی جانب سے سلمان ابڑو کو پروٹوکول سے متعلق اظہار لاتعلقی کیا۔سلمان ابڑو کو پہلے سرکاری پولیس موبائل نمبر جی پی 9159 میں بٹھا کر پیزا کھلایا گیا اور پھر ایس ایس پی غلام سرور ابڑو اپنے ملزم بیٹے کو سرکاری موبائل میں لے کر فرار ہو گیا۔واضح رہے کہ سلمان ابڑو پر الزام ہے کہ اس نے 9 مئی 2014 کو درخشاں تھانے کی حدود خیابان شمشیر میں بنگلے کے اندر فائرنگ کر کے سلیمان لاشاری کو قتل کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…