جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست نوازشریف نے قازقستان کیلئے اہم اعلان کردیا

datetime 25  اگست‬‮  2015 |

آستانہ (نیوزڈیسک)وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کو پورے خطہ کیلئے علاقائی روابط اور ترقی کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لعنت کے خاتمہ کیلئے ملک میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا جو کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے ، افغان امن و مفاہمتی عمل کے متعلق افغان عوام کی زیر قیادت مفاہمتی عمل کی مکمل حمایت کرتے ہیں،دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت، دوستانہ تعلقات اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل کے اصولوں کو فروغ دینا چاہئے، دورہ قازقستان کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات استحکام ، تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یہ بات انہوں نے قازقستان کے دورے کے موقع پر معروف اخبار” آستانہ ٹائمز“ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہی۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم حقیقی مواقع اور امکانات سے کم ہے ۔ دونوں ممالک تجارتی حجم میں اضا فہ کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تعاون و اعتماد سازی اقدامات بارے ایشیائی کانفرنس (سی آئی سی اے) کا حامی ہے اور اس کی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کرے گا۔ وزیراعظم نے سال 2017-18ءکے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کیلئے قازقستان کی حمایت کا اعلان کیا انہوںنے کہا کہ پاکستان پاک چین اقتصادی راہداری کو پورے خطہ کیلئے علاقائی روابط اور ترقی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ سمجھتاہے جس میں سب کا فائدہ ہو گا۔ انہوںنے کہا کہ ہم افغان عوام کی قیادت اور ملکیت میں ہونے والے مفاہمتی عمل کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور خطہ کیلئے افغانستان میں امن و استحکام بڑا اہم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لعنت کے خاتمہ کیلئے ملک میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا جو کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے اور ہم جلد دہشت گردی اور انتہاءپسندی سے نجات حاصل کرلینگے۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ ایشیا میں امن، استحکام اور سلامتی کیلئے اقوام متحدہ کے چارٹرسے وابستگی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت، دوستانہ تعلقات اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل کے اصولوں کو فروغ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور سلامتی کے درمیان باہمی تعلق ہے اس لئے ہمیں اپنی توجہ علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر مرکوز کرناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی امن و سلامتی کیلئے قازقستان کے کردار کو سراہتا ہے اور برادر ملک اور اس کی مدبرانہ قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ قازقستان کی قیادت نے سی آئی سی اے قائم کی جو امن و سلامتی کے فروغ کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم فروغِ امن کے مرکز کے طور قازقستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا خیر مقدم کرتے ہیں۔داعش سے متعلق ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور داعش کے اقدامات اسلام کیخلاف ہیں جن کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…