جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرےگا ، حمید گل مرحوم کا آ خر ی انٹرویو

datetime 23  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) روس کی طاقت کا شیرازہ بکھیرنے والے جنرل (ر) حمید گل مرحوم نے اپنے 11 اگست 2015ءکو دیئے گئے آخری انٹرویو میں کہا تھا کہ دنیا میں عدم توازن کی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہیں ہوتی۔ جنرل راحیل شریف مکمل سپاہی اور بہترین سپہ سالار ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ چلیں میں نے مان لیا کہ نواز شہباز کرپٹ نہیں بددیانت نہیں دونوں بھائی قوم کے ساتھ مخلص ہیں اور قوم کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ ان کے نیچے ان کے جو وزیر اور مشیر ہیں وہ کیا کر رہے ہیں کیا وہ چار چار ہاتھوں سے قومی دولت نہیں لوٹ رہے ہیں۔ اول تو بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرے گا اگر کسی بہانے یا اکسانے پر وہ ایسی حرکت کر بیٹھا تو یہ جنگ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن جائے گی اور اس سے تیسری عالمی جنگ کی بنیاد بن سکتی ہے جس سے بالخصوص ایشیائی و مشرق وسطیٰ کے ممالک تباہی کا منظر پیش کرتے دکھائی دیں گے۔ عالمی طاقتیں اس وقت بھارت کی پشت پر ہیں اور اسے خطے کا تھانیدار بنانا چاہتی ہیں جو کہ ایک خطرناک کھیل ہے۔ عالمی طاقتوں کی کوشش ہے کہ پاک بھارت حالات خراب کر کے براہ راست وہ اس سرزمین میں داخل ہوں میری نگاہ میں یہ بات بہت حد تک ممکن ہے کہ بھارت میں موجود بہت سے انتہا پسند گروپوں میں سے چند گروپ ایسے ہیں جو ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں جیسا وشوا ہندو پریشد یا شیوسینا وغیرہ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…