بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

’وزیراعظم کا لہجہ دھمکی آمیز تھا، ایوانوں سے مستعفی سمجھا جائے‘ متحدہ قومی موومنٹ

datetime 22  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اسمبلیوں میں واپسی کے لیے حکومت سے مزید مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے اراکین کو قومی اسمبلی، سینٹ اور سندھ اسمبلی سے مستعفی سمجھا جائے۔جمعے کی شب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کردہ تحریری بیان میں ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے گذشتہ روز دورہ کراچی میں دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا اور ایم کیو ایم سے مذاکرات اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی بات نہیں کی۔بیان کے مطابق اجلاس میں اسمبلیوں سے ایم کیو ایم کے استعفوں کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے کی جانے والی ثالثی اور حکومتی رویے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز دورہ کراچی کے موقع پر ’وزیراعظم نواز شریف نے غروروتکبر اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کر کے نہ تو مولانا فضل الرحمن کے ثالثی کردار کی قدر کی اور نہ ہی کراچی کے لاکھوں غم زدہ اور روتے تڑپتے عوام کے زحموں پر مرہم رکھا۔‘مولانا صاحب بزرگ کی حیثیت سے جب چاہیں ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن ہم ان سے انتہائی معذرت کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے صلح کار، مذاکرات کار یا ثالث کی حیثیت سے مزید زحمت نہ کریں۔
اپنے تحریری بیان میں ایم کیو ایم نے شکوہ کیا کہ وزیراعظم نے کراچی آکر مذاکرات کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا اور نہ ہی ایم کیو ایم کی جائز شکایات کا نوٹس لے کر ان کا ازالہ کرنے کا کہا۔ایم کیو ایم نے حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے رکنِ اسمبلی مولانا فضل الرحمن کے نام پیغام میں کہا ہے کہ ’مولانا صاحب بزرگ کی حیثیت سے جب چاہیں ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن ہم ان سے انتہائی معذرت کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے صلح کار، مذاکرات کار یا ثالث کی حیثیت سے مزید زحمت نہ کریں۔‘متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو ہر قیمت پر استعفوں کے فیصلے کو قبول کرنا ہوگا۔ایم کیو ایم کے رہنما فارق ستار کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی عائد کر دی گئی جو کہ اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے
’ایم کیو ایم کے ایک ایک منتخب رکن کو تینوں ایوانوں سے مستعفی سمجھا جائے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…