بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

یوم آزادی تقریب میں پروٹوکول کی خلاف ورزی پر رضاربانی کی بطور احتجاج عدم شرکت

datetime 15  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیئرمین سینٹ رضا ربانی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو آئینی مناصب کے تقاضے کے تحت یوم آزادی پر اسلام آباد میں پرچم کشائی کی مرکزی تقریب میں نشستیں نہ دینے کا معاملہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اٹھایا جائے گااسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے ذرائع کاکہنا ہے کہ پرچم کشائی تقریب میں چیئرمین سینٹ اور سپیکر کو آئینی پروٹوکول نہ ملنے کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جائیں گے علاوہ ازیں سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چیئرمین سینٹ نے پرچم کشائی تقریب میں آئینی پروٹوکول نظر انداز کرنے پر تقریب کا بائیکاٹ کردیاتھا اوروہ شریک نہیں ہوئے حالانکہ ایک روز قبل کابینہ سیکرٹری نےسینٹ سیکرٹریٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ چیئرمین سینٹ کے آئینی منصب کا خیال رکھا جائے گا لیکن جمعہ کی صبح کابینہ سیکرٹری نے معذرت کرلی تھی جس کے بعد چیئرمین سینٹ نے تقریب کا بائیکاٹ کردیاتھا اور اسلام آباد میں موجود ہونے کے باوجود وہ شریک نہیں ہوئے روزنامہ جنگ کے سینئرصحافی طاہرخلیل کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے توقع ہے کہ چیئرمین سینٹ اگلے اجلاس میں اس معاملے پر باضابطہ رولنگ جاری کریں گے۔علاوہ ازیں نوشین یوسف کی رپورٹ کے مطابق یوم آزادی کی سرکاری تقریب میں پروٹوکول کی خلاف ورزی پربطور احتجاج چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی شریک نہیں ہوئے۔ کنونشن سینٹر میں منعقدہ پرچم کشائی کی تقریب میں صدرمملکت کی نشست کے ساتھ پروٹوکول کے تحت چیئرمین سینٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی نشستیں ہونا چاہیے تھیں۔ذرائع کے مطابق اس تقریب میں وارنٹ اف پریسیڈنٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئےسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کی نشستیں صدر مملکت ممنون حسین سے دور رکھی گئیں۔ صدر مملکت اور ان کی اہلیہ کے برابر میں فوجی افسر کی اہلیہ اور اس کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیف اف سٹاف جنرل راشد محمود کی نشستیں رکھی گئیں۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینٹ سیکرٹریٹ نے پروٹوکول کی خلاف ورزی کا معاملہ سیکرٹری کابینہ کے سے ساتھ اٹھایا، جنھوں نے یقین دہانی کرائی کہ نشستیں پروٹوکول کے مطابق درست کر دی جائیں گی۔ تاہم یوم آزادی کی تقریب میں نشستیں درست نہیں کی گئیں اور سیکرٹری کابینہ نے اس معاملہ پر بے بسی ظاہر کر دی۔ذرائع کے مطابق جب چودہ اگست کی صبح چیئرمین سینٹ رضا ربانی کو اس خلاف ورزی کا علم ہوا تو وہ راستے سے واپس لوٹ گئے اور یوم آزادی کی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی ایازصادق بھی خاصے برہم تھے لیکن انھوں نے تقریب میں شرکت کی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…