اسلام آباد(نیوز ڈیسک) محکمہ داخلہ پنجاب نے قصور میں بچوں کی زیادتی کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کے لئے چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کو خط لکھ دیا۔نجی ٹی ویکے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو لکھا گیا خط رجسٹرار کو موصول ہوگیا جس میں استدعا کی گئی ہے کہ قصور واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور انکوائری کے لئے سیشن ججز کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے۔دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے ایوان میں قصور واقعات کے خلاف توجہ دلاو¿ نوٹس جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ 280 بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد ویڈیو بنائی گئیں اور والدین کو بلیک میل کیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف وضاحت کریں کہ اتنے بڑے جرم سے پولیس اور انتظامیہ کیوں لاعلم رہی اور گرفتار ملزموں سے تفتیش کے بعد تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے محکمہ داخلہ پنجاب کو قصور واقعے پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے درخواست لکھنے کا حکم دیا تھا۔
قصور واقعہ؛ محکمہ داخلہ پنجاب کا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن کے لئے خط
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری
-
بلاول بھٹو کا خود گاڑی چلاتے ہوئے ای چالان ہو گیا
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا



















































