اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کے معاملے پر جے یو آئی(ف) اور ایم کیوایم قائل کرنے کے لئے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں آئین اور جمہوریت کے لیے ثابت قدم رہنے پر سیاسی رہنماؤں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ جمہوری عمل کی کامیابی کا ثبوت ہے، قوم جمہوریت کے سفر پر آگے بڑھ رہی ہے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے سیاسی قیادت کا اتحاد اہم ہے، ملکی بہتری کےلیے سب کومل جل کر کام کرنا ہوگا۔وزیراعظم نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان اور ایم کیو ایم سے تحاریک واپس لینے کی درخواست کی جس پر جے یو آئی ف، ایم کیو ایم کےعلاوہ پارلیمانی رہنماؤں کی تحاریک واپس لینے کی حمایت کی، وزیراعظم نواز شریف نے تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کے معاملے پر جے یو آئی(ف) اور ایم کیوایم کو قائل کرنے کے لئے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ اسحاق ڈار،خواجہ سعدرفیق، عرفان صدیقی اور پرویزرشید پر مشتمل کمیٹی دونوں سیاسی جماعتوں کو تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق تحریک واپس لینے کےلیے قائل کرے گی۔اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف کے چیمبر میں ہونے والے اجلاس میں خورشید شاہ، مولانا فضل الرحمان، رشید گوڈیل، سراج الحق ، محمود خان اچکزئی، غلام احمد بلور، خالد مقبول صدیقی، اعجاز الحق، پرویز رشید، اسحاق ڈار اور خواجہ سعد رفیق نے شرکت کی تاہم تحریک انصاف کا کوئی رہنما اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔ اجلاس میں انکوائری کمیشن کی رپورٹ، تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کےلیے ایم کیو ایم اور جے یو آئی ف کی قراردادوں کی واپسی اور انتخابی اصلاحات سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے انتخابی اصلاحات کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے کی گئی پیش رفت پر بریفنگ بھی دی۔اجلاس کے دوران ایم کیوایم کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ دھرنےمیں پارلیمنٹ اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف انتہائی غیراخلاقی زبان استعمال کی گئی،جو کچھ تحریک انصاف نے کیا ہم نے کیا ہوتا ہمارا حشر کردیا جاتا، یہ تاثر ہےکہ حکومت اپنی آسانی کے لیے تحریک انصاف کے استعفے قبول نہیں کرنا چاہتی۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد کےتحت تحریک انصاف کے ارکان مستعفی ہوچکے ہیں،انہیں آئین کی ایسی شق بتائیں جس کے تحت ان استعفوں کا قانونی جواز نہ بنتا ہو لیکن اگر ان کے استعفوں پر نظریہ ضرورت کا سہارا لینا ہے تو اور بات ہے۔جے یو آئی (ف) اور ایم کیو ایم کے تحفظات سننے کے بعد وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی اپنی جماعت کی رائے ہے کہ تحریک انصاف کوڈی سیٹ کیا جائے لیکن ہم ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ جس پر جے یو آئی (ف) اور ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک واپس لینے کے بارے میں پارلیمنٹ سے باہر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے لئے مزید وقت مانگ لیا ہے
تحریک انصاف کوڈی سیٹ کرنے کا معاملہ، وزیراعظم نے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لاہور: چلڈرن اسپتال کی پارکنگ سے ڈاکٹر کی لاش ملنے کا معمہ حل، ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات
-
ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا اعلان
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
-
این ڈی ایم اے کا ممکنہ شدید گرمی کے پیش نظر الرٹ جاری
-
لاہو رکے علاقے ڈیفنس میں 2 سوشل میڈیا سٹارز لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ
-
راولپنڈی میں زیادتی کا شکار ہونے والی 15 سالہ طالبہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ، پولیس نے ملزم کو گرفتار...
-
ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا اعلان
-
750روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
پانچ مرلہ کے گھر پر سنگل فیز میٹر لگانے پر پابندی عائد
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
وزیراعلی نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دیں
-
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی کی کہانی خواجہ سعد رفیق منظرعام پر لے آئے
-
ہر بچے کا ’’ب فارم‘‘ اب ایک بار نہیں 3 بار بنے گا! نیا طریقہ کار متعارف



















































