اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

سیلابی ریلا جنوبی پنجاب سے سندھ میں داخل ہو گیا ،کئی بستیاں ڈوب گئیں

datetime 26  جولائی  2015 |

کشمور (نیوز ڈیسک)دریائے سندھ کا سیلابی ریلا جنوبی پنجاب میں تباہی پھیلاتی ہوئی سندھ کی طرف گامزن ہے۔ متاثرہ علاقوں اپنے گھروں سے نقل مکانی کرکے ریلیف کیمپوں میں آنے والے متاثرین کس مپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دریائے سندھ کی بے رحم موجیں جنوبی پنجاب میں تباہی کی داستان رقم کرتے ہوئے سندھ کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ڈیرہ غازی خان میں سیلابی ریلوں نے جکھڑامام شاہ فلڈ بند میں ایک اور سو فٹ چوڑا شگاف ڈال دیا جبکہ چار روز قبل پڑنے والا شگاف ساڑھے تین سو فٹ چوڑا ہوگیا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چٹھہ خالد سندو نے بتایا کہ جکھڑامام شاہ کے علاقے سے 8 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچادیا گیا،شگاف پڑنے سے سیلابی ریلا دریائے سندھ کے مغربی علاقوں کی آبادی میں داخل ہوگیا۔رحیم یار خان کی بستی حامد پورمیں زمینداراں بند بھی ٹوٹ گیا۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بند ٹوٹنے کے بعد سو سیز ائد مکانات اور کھڑی فصلیں زیر آب آچکی ہیں۔لیہ میں بھی کوٹ سلطان کے قریب پْل ٹوٹنے سے بکھری احمد خان جانے والی ٹریفک معطل ہوگئی ہے۔لیہ میں درمیانیدرجے کا سیلاب ہے۔شاہ والا سپربند کے مقام پرخیمہ بستی قائم کردی گئی ہے جہاں متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مظفر گڑھ میں سیلابی ریلے سے سرکی،سیت پور اور کندائی کے مقامات پر 20سے25 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔سیلابی ریلوں کی سندھ میں آمد کے باعث گدو بیراج پر اونچے درجے کا اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔گدو بیراج پر پانی کی آمد 5لاکھ 13ہزار 600کیوسک اور اخراج 4لاکھ 96ہزار130کیوسک ہے۔گدو بیراج پر اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کے بعد کشمور سے گھوٹکی تک متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان کیپہاڑوں پر دو روز سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ کوٹ تگہ میں پہاڑی نالوں کا پانی داخل ہوگیا جس سیدرجنوں گھر زیر آب آگئے اور علاقے کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوچکا ہے جس کے بعد کوٹ تگہ میں ریسکیو ٹیم پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…