منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

طوفانی بارشوں سے15 افراد جاں بحق ، سیکڑوں بستیاں زیرآب

datetime 21  جولائی  2015 |

بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال اختیار کرگئی جب کہ چترال میں تین خواتین سیلابی ریلے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئیں اور 2 لاکھ سے زائد افراد محصور ہوکر رہ گئے پنجاب، آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا اور شمال مشرقی بلوچستان میں گزشتہ 2 روز کے دوران ہونے والی بارشوں کے باعث دریاؤں اورندی نالوں میں سیلابی صورتحال ہوگئی ہے۔ بالائی علاقوں میں غیرمعمولی بارشوں کے بعد محکمہ موسمیات نے فلڈ وارننگ جاری کردیں جس کے بعد نہروں اور دریاؤں کے قریب بسنے والی آبادیوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔چترال میں شدید بارش کے بعد سیلابی صورتحال ہے اور 30 سے 40 پل سیلابی ریلے میں بہہ گئے جب کہ 2 تحصیلوں گرم چشمہ اور کیلاش کا شہر سے رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔ چترال کے 400 دیہات سیلابی ریلے کے باعث متاثر ہوئے جب کہ سڑکوں اور فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ڈپٹی کمشنر چترال امین الحق کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والی شدید بارش کی وجہ سے درجنوں پل بہہ گئے جس کی وجہ سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، سیلاب متاثرین کے لئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، کسی بھی ناخوش گوارواقعے سے نمٹنے کے لئے پاک فوج اوراسکاوٹس کےجوان الرٹ ہیں۔دوسری جانب کوٹ مٹھن کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوررہا ہے جب کہ گڈو بیراج سے درمیانے اور سکھر بیراج پر نچلے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائےجہلم میں منگلا کےمقام پرپانی کا بہاؤ63 ہزار832 کیوسک، دریائےکابل میں نوشہرہ کےمقام پرپانی کابہاؤ1 لاکھ 11 ہزار900 جب کہ دریائے چناب میں ہیڈ تریموں کےمقام پرایک لاکھ 8 ہزار کیوسک ریلا گزررہاہے تاہم دریائے سندھ میں کالاباغ کے مقام پردرمیانے درجے کا سیلاب ہے، دریائےسندھ میں کوٹ مٹھن کےمقام پرپانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے جہاں سے 4 لاکھ 17 ہزار 200 کیوسک کا سیلابی ریلا گزررہا ہے۔ راجن پور میں کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے پربارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی ہے۔تونسہ بیراج کے مقام پراونچے درجے کا سیلاب ہے، اس وقت ہیڈتونسہ پر پانی کی آمد 3 لاکھ 74 ہزار 210 جب کہ اخراج 3 لاکھ 52 ہزار 710 کیوسک ہے جس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، لوگوں کو ریلیف کی فراہمی کےلئے دریائے سندھ کے قریب 18 ریلیف کیمپ قائم کردیئے گئے ہیں۔ روجھان کے کچے کےعلاقوں میں بھی فلڈ وارننگ جاری کردی گئی ہے جس کے بعد لوگوں کی محفوظ مقام پر نقل مکانی شروع ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر بھی طغیانی کے باعث رونکی کے مزید 4 دیہات زیر آب آگئے ہیں، جس کے بعد سیلابی پانی سے متاثرہ دیہات کی تعداد 17 جب کہ 50 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…