منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

ملکی سلامتی کے نام پر عدلیہ کا اختیار استعمال کرنا نظریہ ضرورت ہے،سپریم کورٹ

datetime 3  جون‬‮  2015 |

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ (ہم آئینی ترمیم کو کالعدم نہیں قرار دے سکتے مگر آپ کے مطابق حالات کے مطابق فیصلے ہو سکتا ہے ۔ )۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ ایڈوائزری اختیار استعمال نہیں کر سکتے ۔ پیرزاد ہ نے کہاکہ اخلاقی طور پر یہ اختیار حاصل ہے۔( چیف جسٹس نے کہا کہ جب ریفرنس آئے گا تو تب ہی ایڈوائزری اختیار استعمال ہو سکتا ہے ۔ کیا اس سے ہٹ کر بھی رائے دے سکتی ہے ۔ ) ۔ پیرزادہ نے کہا کہ جی ہاں ایسا ہو سکتا ہے ۔ ایڈوائزری اختیار ہے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ آرٹیکل 186 آپ کے پاس موجود ہے ۔( اگر اپ ملک کو بچانے کی کوشش نہیں کرتے تو یہ آپ کی آئینی ناکامی ہے ۔ جسٹس میں ثاقب نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ریاست کو بچانا نظریہ ضرورت ہے ۔ ) پیرزادہ نے کہ اکہ یہ ذمہ داری صرف عدلیہ نہیں شہریوں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کا تحفظ کریں ۔ (چیف جسٹس نے کہا کہ 18 ویں ترمیم میں جو آڑدر جاری کیا گیا تھسا اس کے حوالے سے عدالت نے اپنا ایڈوائزری اختیار ازخود استعمال کیا تھا )۔ پیرزادہ نے کہا کہ آپ نے کراچی کے حالات پر ویک اپ کال دی تھی یہ آپ کا عدالتی اختیار ہے ۔ (سابق چیف جسٹس محمود الرحمان نے کہا کہ عدالت کو ناقابل اصلاح اور فیصلے کے لئے مداخلت کا اختیار حاصل ہے ۔ جسٹس آصف نے کہا کہ آرٹیکل 199 اور 184 کے اختیار مساوی ہیں کیا ۔۔ ایسی کوئی آئین پرویژن موجود ہے کہ جس کے تحت غیر آئینی اقدام کے خلاف کارروائی کی جا سکے ۔سوائے آرٹیکل 199 کے ۔ حالانکہ ہمارے پاس اس طرح کی کوئی آئینی پرویژن موجود نہیں ہے ۔) کیا ہم کسی معامےل کو غیر آئینی قرار دے سکتے ہیں کیا ہم آئین کا دفاع کر سکتے ہیں ۔(آئین کے دفاع کو کس طرح سے کر سکتے ہیں اگر کوئی حملہ کرے گا تو تب ہی ہم اس کا دفاع کریں گے )۔ اگر کوئی نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے یہ اختیار ہمارے پاس مخصوص ہے اگر کوئی تبدیلی لانا چاہتا ہے تو ہم اس کو روکیں گے ۔ ( آئین کو محفوظ کرنے کے لئے ہم کس حد تک جا سکتے ہیں ۔ پانچ سال قبل آپ نے اس کا جواب کچھ اور دیا تھا ) ۔ پیرزادہ نے کہا کہ آپ نے حلف میں کہہ رکھا ہے کہ آپ آئین کا دفاع اور اس کو محفوظ رکھیں گے ۔ جسٹس آصف نے کہا کہ( اگر ایسی بات ہے تو پھر ہمیں اس ملک کے ہر اہم ستون کو محفوظ رکھنا ہو گا ) یہ بھی ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم آئینی ترمیم کے پارلیمنٹ کے اختیار کا بھی تحفظ کریں ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…