اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

اماراتی وزیر کے بیان کے بعد حکومتی صفوں میں کھلبلی

datetime 13  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ:فیصل ظہیر)پارلیمنٹ کی جانب سے واضح قرارداد آنے کے باوجود پاکستان کی حکومت ابھی تک سعودی اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے کے حوالے سے گومگوں کی کیفیت کا شکار ہے ۔گزشتہ رات سعودی وزیر کی ہنگامی طور پر اسلام آباد آمد کے بعد شہر اقتدار میں چہ میگوئیاں زبان زد عام ہیں کہ نوازشریف پارلیمنٹ کا بائی پاس کرینگے یا نہیں۔ ممکنہ طور وزیر اعظم نوازشریف اپنے سعودی اور اماراتی دوستوں کو قائل کرینگے کہ دوسروں کی جنگ میں شامل ہونے کا پاکستانی پہلے ہی خمیازہ ابھی تک بھگت رہے ہیں ۔50ہزار سے زیادہ شہریوں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیاں، 100ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانے اور موجود وقت میں دہشتگردوں کیخلاف جار ی آپریشن ضرب عضب کے باعث پاک فوج کومزید کسی معاملے میں نہیں الجھانا چاہتے۔لیکن اگر سعودی زمین پر کوئی آنچ آئی تو پاکستان کو سب سے آگے پائیگا۔ دوسری طرف سعودی عرب کے حکام بھی ممکنہ طور پرنوازشریف کو اپنے احسانات یاد دلاسکتے ہیں کہ جب 1999میں جنرل مشرف کی جانب سے ان کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو اس وقت یہی سعودی خاندان تھا جنہوں نے ان کی جان بخشی کروائی تھی اور تقریباً10 سال تک میاں برادران کو ایک مبینہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں پناہ دی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اماراتی وزیر کی جانب سے آنے والے بیان کے بعد سے حکومتی صفوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔اماراتی وزیر کی جانب سے واضح دھمکی کے 24گھنٹے تک حکومت کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا۔وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے آنے والے بیا ن کے بعد صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے ۔اس وقت لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں برسرروزگار ہیں جو اربوں کا زرمبادلہ پاکستان بھیج رہے ہیں ممکنہ طور پر ان کے ساتھ کوئی سختی کی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی حال ہی میں ہونے والا ایل این جی معاہدہ بھی خطرے میں پڑسکتا ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم ہاﺅس میں ایک اعلیٰ سطح کااجلاس بھی جاری ہے جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت شریک ہے جس میں بحران کے حوالے سے مشاورت جاری ہے اور شام تک کوئی اہم اور حتمی فیصلہ آسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…