پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

اماراتی وزیر کے بیان کے بعد حکومتی صفوں میں کھلبلی

datetime 13  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ:فیصل ظہیر)پارلیمنٹ کی جانب سے واضح قرارداد آنے کے باوجود پاکستان کی حکومت ابھی تک سعودی اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے کے حوالے سے گومگوں کی کیفیت کا شکار ہے ۔گزشتہ رات سعودی وزیر کی ہنگامی طور پر اسلام آباد آمد کے بعد شہر اقتدار میں چہ میگوئیاں زبان زد عام ہیں کہ نوازشریف پارلیمنٹ کا بائی پاس کرینگے یا نہیں۔ ممکنہ طور وزیر اعظم نوازشریف اپنے سعودی اور اماراتی دوستوں کو قائل کرینگے کہ دوسروں کی جنگ میں شامل ہونے کا پاکستانی پہلے ہی خمیازہ ابھی تک بھگت رہے ہیں ۔50ہزار سے زیادہ شہریوں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیاں، 100ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانے اور موجود وقت میں دہشتگردوں کیخلاف جار ی آپریشن ضرب عضب کے باعث پاک فوج کومزید کسی معاملے میں نہیں الجھانا چاہتے۔لیکن اگر سعودی زمین پر کوئی آنچ آئی تو پاکستان کو سب سے آگے پائیگا۔ دوسری طرف سعودی عرب کے حکام بھی ممکنہ طور پرنوازشریف کو اپنے احسانات یاد دلاسکتے ہیں کہ جب 1999میں جنرل مشرف کی جانب سے ان کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو اس وقت یہی سعودی خاندان تھا جنہوں نے ان کی جان بخشی کروائی تھی اور تقریباً10 سال تک میاں برادران کو ایک مبینہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں پناہ دی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اماراتی وزیر کی جانب سے آنے والے بیان کے بعد سے حکومتی صفوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔اماراتی وزیر کی جانب سے واضح دھمکی کے 24گھنٹے تک حکومت کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا۔وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے آنے والے بیا ن کے بعد صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے ۔اس وقت لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں برسرروزگار ہیں جو اربوں کا زرمبادلہ پاکستان بھیج رہے ہیں ممکنہ طور پر ان کے ساتھ کوئی سختی کی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی حال ہی میں ہونے والا ایل این جی معاہدہ بھی خطرے میں پڑسکتا ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم ہاﺅس میں ایک اعلیٰ سطح کااجلاس بھی جاری ہے جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت شریک ہے جس میں بحران کے حوالے سے مشاورت جاری ہے اور شام تک کوئی اہم اور حتمی فیصلہ آسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…