یہ ملک ہے ٹشو پیپر نہیں

  جمعرات‬‮ 6 مئی‬‮‬‮ 2021  |  0:01

آج پاکستان میں صحافیوں کی فہرست بنائی جائے تو طلعت حسین پہلے چند ناموں میں آئیں گے‘ پرنٹ میڈیا ہو‘ ٹیلی ویژن ہو یا پھر سوشل میڈیا ہو طلعت حسین نے اس میں اپنا مقام بھی بنایا اور نقش بھی چھوڑا ‘ یہ آج کل اپنا یوٹیوب چینل چلا رہے ہیں ‘ ان کی ویڈیوز وائرل بھی ہوتی ہیں‘ طلعت صاحب نے چند دن قبل میرے کالم ’’ملک اب بدلے گا‘‘ کے ریفرنس سے وی لاگ کیا تھا اور اسمیں اسحاق ڈار صاحب کا انٹرویو کیا تھا‘ میں نے یہ انٹرویو دیکھا لہٰذا میں نہایت ادب سے طلعت حسین سے احتجاج کرنا چاہتا ہوں‘ میں نے کالم میں جس بریفنگ کا حوالہ دیا تھا طلعت صاحب اس میں موجود نہیں تھے‘ میرا کالم بھی تفصیلی نہیں تھا‘ طلعت صاحب نے

اس مختصر کالم کے اندر سے انتہائی چھوٹا حصہ اٹھایا اور اس پر پورا پروگرام کر دیا‘یہ اگر پروگرام سے قبل میرے ساتھ رابطہ کر لیتے‘ یہ مجھ سے تفصیل پوچھ لیتے یا آئی ایس پی آر سے تصدیق کر لیتے تو تصویر کا دوسرا رخ بھی ان کے سامنے آ جاتااور یوں ان کا وی لاگ غیر جانب دار اور ٹھوس ہو جاتالیکن ’’ون سائیڈڈاینگل‘‘ کی وجہ سے ان کا پروگرام جانب دار اور غیرمتوازن ہو گیاجس کی وجہ سے میں حقائق کلیئر کرنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔میں اسحاق ڈار صاحب کا بھی احترام کرتا ہوں‘ یہ ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے ہیں‘ یہ حضرت داتا گنج بخشؒ اور حضرت بری امامؒ کے بھی عقیدت مند ہیں لیکن اس کا ہرگز‘ ہرگز یہ مطلب نہیں یہ غلطیوں یا کوتاہیوں سے پاک ہیں‘ اسحاق ڈار صاحب سے بھی غلطیاں ہوئیں اور قوم کو ان غلطیوں کاخمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے‘ ہم اگر واقعی اس ملک سے محبت کرتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کرنا ہوگا اور ان کی اصلاح بھی ورنہ یہ ملک تباہ ہو جائے گا۔ میرے کالم میں ڈار صاحب سے متعلق تین واقعات تھے‘میں تینوں کی تفصیل لکھ دیتا ہوں اور فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیتا ہوں۔پہلا واقعہ قرضوں سے متعلق تھا‘ ڈار صاحب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کےاعتراضات کو سائیڈ پر رکھ دیں اور صرف یہ بتادیں کیا وزیراعظم کا آفس 2016ء سے قرضوں کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار نہیں کر رہا تھا؟ کیا پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد ہر میٹنگ میں یہ نہیں کہتے تھے ہم نے اگر اپنی گروتھ سسٹین نہ کی تو ہم2019ء میں قرضے ادا نہیں کر سکیں گے اور کیا 2017ء میں شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں نیشنل سیکورٹی کمیٹی کیمیٹنگ نہیں ہوئی تھی اور اس میٹنگ میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل زبیر حیات‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ‘ ائیر چیف مارشل سہیل امان اور نیول چیف ایڈمرل ذکاء اللہ شامل نہیں تھے اور اس میٹنگ میں احسن اقبال نے سی پیک پر بریفنگ نہیں دی تھی اور اس بریفنگ کے بعد آرمی چیف نے اسحاق ڈار سے یہ نہیں پوچھا تھا‘ ڈار صاحب فنانشل ایکسپرٹس کہہ رہےہیں ہم نے بھاری سود پر قرضے لے لیے ہیں ‘ہم یہ ادا نہیں کر سکیں گے اور کیا ڈار صاحب خاموش نہیں رہے تھے اور پھر وزیراعظم کے اشارے پر فواد حسن فواد نے جواب نہیں دیا تھا اور فواد صاحب نے یہ تسلیم نہیں کیا تھا’’ اورنج لائین میٹرو ٹرین کو سی پیک میں شامل کرنے کی وجہ سے انٹرسٹ میں اضافہ ہوا‘‘ اورکیا فواد صاحب نے یہ بھی نہیں مانا تھا’’ یہ قرضے 2019ء میںپاکستان کے لیے بہت بڑا چلنج ہوں گے؟‘‘ ڈار صاحب جواب دیں! سچ تو یہ ہے جنرل باجوہ نے اس وقت اسحاق ڈار سے کہا تھا‘ ڈار صاحب اگر ہم میٹرو کا ٹکٹ 240 روپے رکھیں تو بھی ہم بڑی مشکل سے قسطیں ادا کرسکیں گے‘ آپ ہمیں سمجھائیں ہم 20 روپے چارج کر کے قرضہ کیسے ادا کریں گے؟جنرل باجوہ نے یہ بھی کہا تھا‘ میں قرضوں کے خلاف نہیں ہوں لیکن ہمیں قرضے لے کر تربیلااور منگلا ڈیم جیسے منصوبے بنانے چاہییں‘ یہ پانچ سات سال میں اپنی کاسٹ بھی پوری کر لیتے ہیں اور ملک کو بھی لانگ ٹرم فائدے ہوتے ہیں‘ ہم 240 روپے کا ٹکٹ 20 روپے میں بیچ کر یہ قرضہ کیسے اتاریں گے؟ ڈار صاحب نے اس وقت چہرہ دائیں بائیں گھما کر کہا تھا’’جنرل صاحب کچھ فیصلے سیاسی بھی ہوتے ہیں‘‘ اور اس واقعے کے تینسروسز چیفس سمیت چالیس لوگ گواہ ہیں۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں فواد حسن فواد‘ وزیراعظم میاں نواز شریف اور چین کی حکومت تینوں اورنج لائین میٹرو ٹرین کے خلاف تھے‘ چین اسے سی پیک میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا‘ فواد حسن فواد حیات ہیں‘ آپ ان سے پوچھ لیں کیا یہ کابینہ کے اجلاس میں یہ نہیں کہتے تھے یہ منصوبے عقل مندی نہیں‘ ہم اس کے قرضے ادا نہیں کرسکیں گے‘یہ میٹرو بسوں کے بھی حق میں نہیں تھے‘ ان کا کہنا تھا ہم اس رقم سے لاہور میں 22 لینز بنا سکتے ہیں لیکن کسی نے ان کی نہیں سنی‘ میں نے کل تصدیق کے لیے فواد حسن فواد کو فون کیا تو انہوں نے اعتراف کیا ’’ چینی زعماء اور نواز شریف بھی اس منصوبے پر خوش نہیں تھے‘‘لیکن ڈار صاحب آج بھی اسے اپنا سٹار پراجیکٹ کہہ رہے ہیں۔ہم اب آتے ہیں ویسپا کے ایشو پر‘سٹیفنو پونٹے کوروو (Stefano Pontecorvo) پاکستان میں اٹلی کے سفیر تھے‘ یہ آج کل افغانستان میں نیٹو کے سول نمائندے ہیں‘ یہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے پاس گئے تھے اور انہوں نے کہا تھا ویسپا پاکستان میں دو پلانٹ لگانا چاہتا ہے لیکن وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے ویسپا کی انتظامیہ سے کمیشن مانگ لیا‘ جنرل باجوہ نے یہ ایشو بھی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں اٹھایا تھا‘ کمیٹی میں شامل تماملوگوں نے یہ بات سنی تھی لیکن کسی نے اسحاق ڈار سے وضاحت نہیں مانگی تھی‘ میں نے بھی یہ بات 2017ء میں سنی تھی اور اس کی تصدیق بھی کی تھی‘ اس میٹنگ میں موجود لوگ آج بھی حیات ہیں اور آپ ان سے بھی کنفرم کر سکتے ہیں‘ حکومت ویسپا اور سٹیفنو سے بھی پوچھ سکتی ہے اور جنرل باجوہ بھی موجود ہیں‘ آپ ان سےپوچھ لیں۔یہ الزامات درست ہیں یا غلط یہ صرف وہ اللہ جانتا ہے جس کو ہم سب نے جان دینی ہے چناں چہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے جہاں تک ممکن ہو ہم سچ بولیں تاکہ ہم اپنے ضمیر اور اپنے رب کے سامنے شرمندہ نہ ہوں‘ مجھے اسحاق ڈار یا جنرل باجوہ دونوں سے کوئی غرض نہیں‘ میری غرض صرف یہ ملک ہے‘ یہ ہے تو ہم سب ہیں‘ یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں چناں چہ اوپر اللہ اور نیچے یہ ملک اور بس۔میں دل سے سمجھتا ہوں میاں نواز شریف اور اسحاق ڈار نے ملک سے باہر جا کر اس ملک اور عوام دونوں سے زیادتی کی‘ میاں نواز شریف اگر اس بار جیل برداشت کر جاتے یا یہ علاج کرا کے واپس آ جاتے تو آج ان کا سیاسی قد ملک کے تمام سیاسی قدوں سے بلند ہوتا‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسری بار اصلی اور بڑا لیڈر بننے کا موقع دیا لیکن افسوس انہوں نے یہ بھی کھو دیا اور آج جب آصف علی زرداریان سے کہتے ہیں ’’میاں صاحب پاکستان واپس آئیں‘ لڑنا ہے تو سب کو جیل جانا ہوگا‘‘ تو نواز شریف کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا‘ اسحاق ڈار بھی لندن میں بیٹھ کر’’سچ‘‘ بول رہے ہیں‘ یہ اگر سچے ہیں تو یہ واپس آئیں اور میدان میں کھڑے ہو کر ویسپا‘ میٹروز اور قرضوں کا جواب دیں‘ آئی ایم ایف اور حکومت دونوں ان پر اعدادوشمار میں جعل سازی (فورجری) کا الزام لگا رہیہیں‘ یہ واپس آئیں اور سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیں‘ اگر میاں شہباز شریف کینسر کے مریض ہونے کے باوجود دو مرتبہ جیل جا سکتے ہیں‘ حمزہ شہباز 20ماہ جیل میں رہ سکتے ہیں‘ شاہد خاقان عباسی‘ خواجہ آصف اور رانا ثناء اللہ جیلیں‘ مقدمے اور عدالتیں بھگت سکتے ہیں‘ اگر احسن اقبال گولی کھا کر بھی میدان میں کھڑے رہسکتے ہیں‘ میاں جاوید لطیف غداری کے مقدمے بھگت سکتے ہیں اور حنیف عباسی 25سال کی سزا سن کر بھی میدان نہیں چھوڑ رہاتو اسحاق ڈار ساڑھے تین سال سے لندن میں کیوں بیٹھے ہیں؟آپ تماشا دیکھیں ‘یہ لندن میں بیٹھے بیٹھے سینیٹر بن گئے اور حلف اٹھانے کے لیے بھی پاکستان نہیں آئے‘ ڈار صاحب کے خلاف تمام الزامات غلط ہو سکتے ہیں لیکن اسحاق ڈار کو انہیں غلطثابت کرنے کے لیے واپس آنا ہو گا‘ یہ واپس آئیں اور الزام لگانے والوں کے خلاف کیس کریں‘ یہ اسلام آباد میں بیٹھ کر ثابت کریں میٹروز بنانے کا فیصلہ درست تھا اور حکومت کس کھاتے سے رقم نکال کر ادائیگیاں کر سکتی ہے‘ یہ ثابت کریں قرضے بھی ٹھیک لیے گئے تھے اور شرح سود بھی کم تھی اور حکومت کے اعدادوشمار میں بھی کسی قسم کی جعل سازی نہیں تھی‘ اگر مفتاح اسماعیلوزیر خزانہ رہنے کے بعد کیس بھگت سکتے ہیں تو اسحاق ڈار کیوں نہیں؟ یہ لندن میں بیٹھ کر ’’سچ‘‘ کیوں بول رہے ہیں؟ ان کے پاس یقینا معلومات ہوں گی‘ یہ سچے بھی ہو سکتے ہیں لیکن انہیں بہرحال خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے واپس آنا ہو گا‘ ہمیں اب کم از کم وائسرائے کے دور سے آگے نکل جانا چاہیے‘ یہ زیادتی ہے آپ کا اقتدار ختم ہو جائے تو آپ لندن چلے جائیں اور اقتدار کے امکانات پیدا ہو جائیں تو آپ وائسرائے بن کر واپس آ جائیں‘ یہ زیادتی ہے ڈار صاحب! یہ ملک ہے‘ ٹشوپیپر نہیں


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

پہلے جنم کے پانچ ساتھی

میں نے چند برس قبل حیات بعد ازمرگ پر کالم لکھا تھا‘ وہ عام سی فضول تحریر تھی‘ لوگوں نے اسے یاوہ گوئی سمجھ کر اگنور کر دیا لیکن وہ پڑھ کر میڈیکل کالج کی ایک سٹوڈنٹ نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا ’’مجھے بچپن سے خواب آتے ہیں‘ میرا بڑا سا گھر ‘ ایک جوان بیٹا اور بہو ....مزید پڑھئے‎

میں نے چند برس قبل حیات بعد ازمرگ پر کالم لکھا تھا‘ وہ عام سی فضول تحریر تھی‘ لوگوں نے اسے یاوہ گوئی سمجھ کر اگنور کر دیا لیکن وہ پڑھ کر میڈیکل کالج کی ایک سٹوڈنٹ نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا ’’مجھے بچپن سے خواب آتے ہیں‘ میرا بڑا سا گھر ‘ ایک جوان بیٹا اور بہو ....مزید پڑھئے‎