کنٹینر

  اتوار‬‮ 4 اپریل‬‮ 2021  |  0:04

کمرے میں بہت گرمی تھی‘ دور کونے میں ایک چھوٹا سا فرشی پنکھا پڑا تھا‘ اس کے پروں سے ہوا کم اور ٹیں ٹیں ٹھک کی آوازیں زیادہ آ رہی تھیں‘ چھت اور دیواریں لوہے کی تھیں اور انہوں نے گرمی میں تپ کر کمرے کو اوون بنا دیا تھا‘ زمین پر گندے لفافے‘ پرانے اخبار اور پلاسٹک کی اُدھڑی کچلی پیکنگ بکھری ہوئی تھی‘ فرش لکڑی کا تھا‘ گیلا تھا اور اس میں سے بدبو آرہی تھی اوردیوار پر سیاہ رنگ کا ایک قدیم کلاک لٹک رہا تھا‘ وہ سمٹ سمٹ اور لڑھک لڑھک کر چل رہا تھا‘ ہم اس کمرے میں چار لوگ تھے اور ہم سب لوہے کی کرسیوں پر دیوار کے ساتھ بیٹھے تھے‘ پہلے نمبر پر موراکو کا ایک تاجر بیٹھا تھا‘ یہ ذرا سا

فربہ تھا‘ پیٹ نکلا ہوا تھا لیکن باقی جسم متناسب تھا ‘ بال سامنے سے اُڑے ہوئے تھے اور وہ بار بار سر پر ہاتھ پھیر کر بال سنوارنے کی کوشش کر رہا تھا‘ اس نے امیگریشن کے عملے کو بتایا تھا‘ میں طنجہ میں کھجوروں کا کاروبار کرتا ہوں‘ وہ حلیے سے بھی کھجوروں کا تاجر لگتا تھا‘ میں جب بھی اس کی طرف دیکھتا تھا مجھے اس سے کھجوروں کی بو آنے لگتی تھی‘ اس کے ساتھ ایک نوجوان پولش خاتون بیٹھی تھی‘ یہ اپنے ہینڈ بیگ سے بار بار چھوٹا سا آئینہ نکالتی تھی اور دیر تک اپنے بال اور ہونٹ سیدھے کرتی رہتی تھی‘ اس کی حرکتیں اپنے منہ سے اس کی بیک گرائونڈ اور اس کے پیشے کی نشان دہی کر رہی تھیں‘ میں تیسرا تھا‘میرا ٹرالی بیگ میرے سامنے پڑا تھا‘ میں نے اپنی دونوں ٹانگیں اس پر رکھی ہوئی تھی اور میں مزے سے کتاب پڑھ رہا تھا‘ میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد دائیں بائیں دیکھتا تھا اور پھر کتاب میں ڈبکی مار دیتا تھا اور میرے بعد ایک بوڑھی فرنچ بیٹھی تھی‘ اس کے ہاتھوں میں رعشہ تھا اور چہرے پر جھریوں کے الجھے ہوئے جال بچھے تھے‘ میں جب بھی اس کے چہرے کی طرف دیکھتا تھا تو مجھے بے اختیار کریلا یاد آ جاتا تھا اور میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی تھی میں اس کے منہ پر ہاتھ پھیر کر دیکھوںکریلے کی جھریوں اور اس کی جھریوں میں کیا فرق ہے لیکن میں ہر بار اپنی یہ خواہش دل میں دبا کر دیوار کے کلاک کی طرف دیکھنے لگتا تھا‘ ہمیں وہاں تین گھنٹے ہو چکے تھے‘ اس دوران صرف ایک بار پولیس کا ایک اہلکار اندر آیا اور ہمیں پانی کی بوتلیں پکڑا کر واپس چلا گیا‘ کمرے کا لوہے کا دروازہ بند تھا لیکن اس کے نیچے سے روشنی کی ہلکی ہلکی لکیر اندر جھانک رہی تھی‘ یہ لکیر بیرونی دنیا سے ہمارا واحد رابطہ تھی‘ہم لکیر دیکھ کر گرتے ہوئے سورج کا اندازہ کر رہے تھے‘ ہمیں اچانک دور سے تیز تیز قدموں کی آواز سنائی دی‘ ہم چاروں نے سر اٹھائے اور اپنے کان اور نظریں دروازے کی طرف لگا دیں‘قدم دروازے پر آ کر رک گئے‘ روشنی کی لکیر میں دو سیاہ دھبے ابھر آئے‘ باہر سے لاک کھلنے کی آواز آئی‘ دروازہ چڑچڑایا‘ امیگریشن آفیسر اندر داخل ہوااور اس نے میرا پاسپورٹ ہوا میں لہراکر زور سے کہا ’’مسٹر شودری کم ود می‘‘ میں نے کتاب بند کی‘ پائوں بیگ سے اتارے‘ اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور بیگ کھینچ کر باہر آ گیا‘ باہر کی دنیا کمرے سے باکل مختلف تھی‘ باہر روشنی بھی تھی‘ ہریالی بھی‘ رونق بھی اور طراوت بھی‘ آسمان پر پرندے اڑ رہے تھے‘ دور دور تک ہریالی بکھری تھی‘ہوا میں تازگی اور فضا میں ایک کھلا پن تھا اور میرے سامنے سیکڑوں روسی حسینائیں بھی پھر رہی تھیں‘ میں نے گھبرا کر پیچھے دیکھا‘ گارڈ کمرے کا دروازہ بند کر رہا تھا‘ اندر اسی طرح اندھیرا‘ گرمی‘ حبس اور ڈپریشن تھا‘میں نے آگے کی طرف دیکھا تو کمرے سے تین فٹ کے فاصلے پر رونق ہی رونق اور تازگی ہی تازگی تھی‘ گارڈ مجھے لے کر مرکزی دروازے پر آیا‘ میرا پاسپورٹ میرے ہاتھ میں دیا‘ گیٹ کا بٹن دبایا اور ’’ویل کم ٹو رشیا‘‘ کہہ کر مجھے گیٹ سے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔یہ پانچ سال پرانی بات ہے‘ میں چار دن کے لیے روس گیا‘ ماسکو ائیرپورٹ پر اترا تو مجھے امیگریشن نے روک لیا‘ یہ مجھے ائیرپورٹ کے اندر سے مختلف غار نما کوریڈورز سے گزار کر ایک چھوٹے سے گندے کنٹینر میں لے گئے‘ مجھ سے پہلے وہاں دو لوگ بیٹھے تھے‘ میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا‘ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور ایک فرنچ مائی کو بھی ہمارے ساتھ لا کر بٹھا دیا گیا‘ میرے ساتھی پریشان تھے‘ میں بھی شروع میں پریشان رہا لیکن پھر میں نے اپنے پائوں بیگ پر رکھے اور کتاب پڑھنا شروع کر دی‘ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر اندازہ کر چکاتھا یہ کھیل ایک آدھ گھنٹہ چلے گا اور یہ لوگ پھر ہمیں ایک ایککر کے ماسکو ائیرپورٹ سے باہر جانے کی اجازت دے دیں گے‘ میں دنیا کے مختلف ملکوں میں درجنوں مرتبہ اس عمل سے گزرچکا تھا لہٰذا مجھے زیادہ پریشانی نہیں تھی جب کہ میرے ساتھ بیٹھے تینوں مسافر ٹھیک ٹھاک پریشان تھے‘ یہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھتے تھے اور پھر اضطرار میں عجیب و غریب حرکتیں کرتے تھے ‘ ہمارا انتظار بہرحال تین گھنٹے تک طویل ہو گیا اور اس کے بعد سب سے پہلے مجھے ’’عزت‘‘ کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی گئی لیکن یہ تین گھنٹے مجھے زندگی کا حیران کن سبق دے گئے‘ میں کنٹینر میں بیٹھا تھا تو مجھے روس دنیا کی بدصورت‘ مشکل اور انتہائی فضولجگہ محسوس ہو رہی تھی لیکن میں جوں ہی کنٹینر سے باہر آیا تو میری رائے تبدیل ہو گئی‘ یہ ملک اب جنت کا ٹکڑا تھا‘ تین چار فٹ کے فاصلے اور ایک دروازے نے میری رائے 180د رجے تبدیل کر دی‘ میں نے اس وقت محسوس کیاہم انسان بھی نفرت‘ محبت‘ دوستی‘ دشمنی اور تعصب کے مختلف کنٹینروں میں رہتے ہیں‘ ہماری ہر قسم کی رائے ہمارے کنٹینرز کی وجہ سے ہوتی ہے‘ ہم جس کنٹینر میں بیٹھے ہوتے ہیں ہمیں پوری دنیا ویسی دکھائی دیتی ہے لیکن ہم جب اس کنٹینر سے باہر آتے ہیںتوہمیں پھر زندگی کی اصل حقیقتیں نظر آنے لگتی ہیں‘ مجھے آج بھی یاد ہے میں دس برس قبل کابل گیاتھا‘ میں فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا‘ ہوٹل کے اندر ہر چیز شان دار تھی‘ کافی بھی مل رہی تھی‘ فرنچ‘ جاپانی اور افغانی کھانے بھی‘ سرد گرم پانی بھی ‘ سٹیم باتھ اور سوانا بھی اور سوئمنگ پول بھی‘ ہم لوگ دو ایکڑ کے اس ہوٹل کو کل کابل سمجھ رہے تھے اور ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے لوگ اس خوب صورت شہر کو جنگ زدہ کیوں کہتے ہیں لیکن میں جب اگلے دن ہوٹل سے باہر نکلا اور میں نے شہر دیکھنا شروع کیا تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ آدھا شہر ملبے کا ڈھیر تھا‘ ہر تیسرا شخص لولا‘ لنگڑا اور اندھا تھا‘ بچوں کے چہروں پر افلاس کی تہیں جمی تھیں اور خواتین برقعوں میں لپٹی ہوئی زندہ لاشیں تھیں‘ پورا شہر انسانی المیہ تھا‘ آپ یقین کریں اصل کابل اورفائیو سٹار ہوٹل کے کابل میں صرف ایک سڑک کا فاصلہ تھا‘ آپ ہوٹل کے اندر قدم رکھ دیں تو کابل دنیا کا جدید ترین شہر بن جاتا تھا اور آپ صرف ایک سڑک پار کر لیں تو کابل انسانی المیہ بن جاتا تھا‘ یہ کیا تھا؟ یہ کنٹینر کا فرق تھا۔ ہم انسان کنٹینروں میں زند گی گزار رہے ہیں‘ کام یابی ہو یا ناکامی‘ صحت ہو یا بیماری‘ خوب صورتی ہو یا بدصورتی یہ سب کنٹینر ہیں‘ ہم میں سے جو شخص جس کنٹینر میں ہے اس کی نظر میں پوری کائنات ویسی ہے اور اس کی یہ کائنات اس وقت تک ویسی رہتی ہے جب تک وہ اپنے کنٹینر سے باہر نہیں نکلتا‘ شہریت‘ مذہب اور مسلک بھی کنٹینر ہیں اور ہماری عصبیتیں‘ پرائڈز اور بہادری بزدلی بھی کنٹینر‘ میرے ایک دوست ہیں سردار کامران‘ یہ اکثر کہتے ہیں ہمارے مدارس میں اسلام نہیں پڑھایا جاتامسلک پڑھائے جاتے ہیں اور مسلک کے ان کنٹینروں سے نفرت کے سوا کچھ نہیں نکلتا‘یہ بات غلط نہیں ہم سب اپنے اپنے مسلک کے کنٹینر میں بیٹھ کر دوسروں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں وہ سب کافر نظر آتے ہیں اور ان کافروں کو ہم کافر لگتے ہیں‘ یورپ کے کنٹینر میں بیٹھے لوگ جب ایشیا اور افریقہ کو دیکھتے ہیں یا افریقہ اور ایشیا کے کنٹینروں میں محبوس لوگ جب فرسٹ ورلڈ کو دیکھتے ہیں تو یہ انہیں عجیب اور اجنبی محسوس ہوتے ہیں‘ چرچ کے کنٹینر میں بیٹھے قیدی کو مسجد کے لوگ کافر اورمسجدوں میں بیٹھے لوگوں کو مندروں‘ ٹمپلز‘ سینا گوگ اور کلیسائوں میں بیٹھے لوگ واجب القتل محسوس ہوتے ہیں‘ پی ڈی ایم کے کنٹینر میں بیٹھے لوگوں کو حکومت سرکس جب کہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کو پی ڈی ایم کرپٹ دکھائی دیتی ہے‘ جمہوریت کے کنٹینر میں بیٹھے لوگ اسٹیبلشمنٹ کو ملک کا دشمن اور اسٹیبلشمنٹ کے کنٹینر میں براجمان لوگوں کو سیاست دان سیکورٹی رسک محسوس ہوتے ہیں‘ ہم سب لوگ کنٹینروں میں محبوس ہیں اور ہم اپنے کنٹینروں کو کائنات کی حقیقت سمجھ لیتے ہیں‘ہماری آنکھ کی لالی پوری زمین کو سرخ بنا دیتی ہے اور ہماری انگلی کی چوٹ پورے ملک کو دکھی سمجھ بیٹھتی ہے لہٰذا پھر معاشرے‘ ملک اور دنیا میں امن کیسے آ سکتا ہے؟ ہم اگر امن سے رہنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے کنٹینر سے باہر نکل کر دنیا کو دیکھنا ہو گا‘ ہو سکتا ہے باہر کی حقیقت ہمارے اندر کی حقیقت سے مختلف ہو‘اصل ریالٹی مکمل طور پر مختلف ہو۔ میں ہر حکومت سے عرض کرتارہتا ہوں‘ آپ کسی نہ کسی طرح پاکستانیوں کے لیے کسی ملک کی سرحد کھلوا دیں‘ آپ ایران کھول دیں‘ افغانستان‘ چین یا پھر بھارت کھول دیں‘ کیوں؟ کیوں کہ ہم لوگ جب تک اپنے کنٹینر سے باہر نہیں نکلیں گے ہمیں اس وقت تک دنیا اور زندگی کی سمجھ نہیں آئے گی‘ ہم اس وقت تک اسی طرح اپنے کنٹینر کو جنت سمجھتے رہیں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎