لولا ڈی سلوا کے چہرے پر سنجیدگی تھی‘ اس نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ رکھے تھے اور وہ کیمرے کی طرف دیکھنے کی بجائے کھڑکی سے شہر کی طرف دیکھ رہا تھا‘ اس کے سامنے شہر کی سینکڑوں‘ ہزاروں چھتیں بکھری تھیں اور وہ ان چھتوں پر خوابوں‘ خواہشوں اور تمناﺅں کی لہلہاتی فصلیں گن رہا تھا‘ کیمرے کی کلک ہوئی اور اس کے بعددیر تک کلک کلک کی آوازیں اورفلیش کے کوندے اس کے ارد گرد لہراتے رہے ‘ دنیا کے جدید ترین کیمرے نے لولاڈی سلوا کی دو سو تصویریں کھینچ لیں۔
فوٹو گرافروں کی ٹیم ان میں سے بہترین تصویر منتخب کرے گی‘ یہ تصویر ٹائم میگزین میں شائع ہوگی اورپوری دنیا کے پڑھے لکھے لوگ لولا ڈی سلوا کے سینے پر بندھے ہاتھ اور چہرے کی سنجیدگی دیکھیں گے اور مزدور کے اس بیٹے کے عزم کی داد دیں گے۔ فوٹوگرافروں کی ٹیم نے لولاڈی سلوا کا شکریہ ادا کیا‘ وہ آگے بڑھا‘ اس نے دروازہ کھولا اور ٹیم کے تمام لوگوں کوجھک کر رخصت کیا‘ صدر کا سٹاف باہر کھڑا تھا‘ ان لوگوں کو سختی سے ہدایت تھی صدر کے تمام مہمانوں کو ان کا ذاتی مہمان سمجھا جائے اور جب تک وہ مہمان صدارتی دفتر‘ ڈرائنگ روم یا صدارتی سٹڈی سے رخصت نہیں ہو جاتے وہ اس وقت تک صدر کے مہمان ہیں‘ سٹاف کا کوئی رکن ان مہمانوں کو چائے‘ کافی یا پانی پیش نہیں کرے گا‘ صدر لولاڈی سلوا یہ ذمہ داری خود پوری کریں گے‘ برازیل کے مزدور صدر لولاڈی سلوا کی یہ تصویر میں نے ٹائم میگزین کے اپریل 2010ءکے شمارے میں دیکھی تھی‘ ٹائم میگزین ہر سال دنیا کی سو انتہائی بااثر شخصیات کی تصاویر شائع کرتا ہے ‘ دنیا کا جو شخص اس پورٹ فولیو میں شامل ہو جاتا ہے اس کی صلاحیت‘ خدمت اور کارناموں پر تصدیق کی مہر لگ جاتی ہے‘اپریل 2010ءکا پورٹ فولیو برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا سے شروع ہوا تھا‘ یہ اس پورٹ فولیو کی پہلی شخصیت تھے‘ لولاڈی سلواچالیس سال پہلے سوچ بھی نہیں سکتا تھا یہ کبھی برازیل جیسے ملک کاصدر بنے گا‘ اس کی تصویر دنیا کی سو بااثر ترین شخصیات کی فہرست میں شائع ہوگی اور مائیکل مور جیسا صحافی امریکی انتظامیہ کو مشورہ دے گا امریکی قیادت کو برازیل اور برازیلی صدر لولاڈی سلوا سے حکومت اور سیاست سیکھنی چاہیے‘ یہ واقعی معجزہ تھا لیکن لولاڈی سلوا اس معجزے کو ”ڈیزرو“ کرتا ہے۔





















































