بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

محمد یونس نے الوداعی تقریر میں بھارت کی دھجیاں اُڑا دیں؛ مودی کو آئینہ دکھا دیا

datetime 19  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) محمد یونس نے بنگلادیش میں عام انتخابات کے انعقاد کے بعد عبوری حکومت کی سربراہی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

اپنے الوداعی خطاب میں انہوں نے ایک بار پھر ایسا بیان دیا جس نے خطے میں بحث چھیڑ دی، خصوصاً بھارت سے متعلق تاثر کو نمایاں کیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش کا سمندر صرف جغرافیائی حد نہیں بلکہ عالمی تجارت اور معیشت تک رسائی کا اہم راستہ ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے نیپال، بھوٹان اور خطے کی معروف اصطلاح ’’سیون سسٹرز‘‘ کو معاشی امکانات سے بھرپور قرار دیا۔ اگرچہ انہوں نے براہِ راست بھارت کا نام نہیں لیا، مگر اس اصطلاح کے استعمال نے نئی دہلی میں تشویش پیدا کر دی۔’’سیون سسٹرز‘‘ دراصل بھارت کے شمال مشرق میں واقع سات ریاستوں — اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورام، ناگالینڈ اور تریپورہ — کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ علاقہ بقیہ بھارت سے جغرافیائی طور پر تقریباً الگ ہے اور صرف ایک تنگ زمینی راستے، سلی گڑی راہداری، کے ذریعے مرکزی حصے سے جڑا ہوا ہے جسے دفاعی ماہرین ’’چکن نیک‘‘ بھی کہتے ہیں۔

یہ خطہ اس لیے بھی حساس سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے قریب بنگلادیش، نیپال، بھوٹان اور چین کی سرحدیں واقع ہیں۔ مبصرین کے مطابق یونس کے حالیہ بیان کو بھارت میں اس تاثر سے جوڑا جا رہا ہے کہ وہ ان ریاستوں کو الگ جغرافیائی شناخت کے طور پر پیش کر رہے ہیں، خصوصاً اس پس منظر میں کہ وہ پہلے بھی انہیں خشکی میں گھرا علاقہ قرار دے چکے ہیں اور بنگلادیش کو ان کے لیے ممکنہ سمندری راستہ بتایا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس چین کے دورے کے دوران بھی انہوں نے یہی مؤقف اختیار کیا تھا اور کہا تھا کہ شمال مشرقی بھارتی ریاستوں کا براہِ راست سمندری رابطہ موجود نہیں۔ اس بیان پر اُس وقت بھی بھارت میں سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔

مزید برآں، اروناچل پردیش پر چین پہلے ہی دعویٰ کرتا ہے اور اسے جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، جس سے اس خطے کی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب بنگلادیش اور بھارت کے درمیان طویل سرحد موجود ہے، اور بھارت ماضی سے یہ خواہش ظاہر کرتا رہا ہے کہ اپنی شمال مشرقی ریاستوں کے لیے بنگلادیشی راستے، خصوصاً چٹاگانگ بندرگاہ، تک رسائی حاصل کرے۔ تاہم بنگلادیش میں اس معاملے کو ہمیشہ نازک سمجھا گیا ہے اور مختلف حکومتیں و حلقے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…