واشنگٹن(این این آئی)بدنام زمانہ جنسی سکینڈل ایپسٹین سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ طیش میں آگئے اور الٹا سوال کرنے والی رپورٹر کو ہی جھڑک دیا۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق اوول آفس کی ایک تقریب جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حکومتی کامیابیاں گنوا رہے تھے۔ غیر متوقع طور رونما ہونے والے واقعے کی نذر ہوگئی۔اس موقع پر نشریاتی ادارے سی این این کی خاتون نامہ نگار کیٹلین کولنز نے ایپسٹین جنسی اسکینڈل سے متعلق دستاویزات اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی سے متعلق سوالات اٹھائے۔خاتون صحافی نے برملہ نشاندہی کی کہ ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والی معلومات کو صرف ڈیموکریٹس کے خلاف پیش کرنا درست نہیں کیونکہ ان دستاویزات میں ٹرمپ کے قریبی حلقے کے بعض افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔جواب میں ٹرمپ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ میں نے وہ ای میلز نہیں پڑھیں اور یہ کہ اگر ان میں کوئی بڑی بات ہوتی تو بڑی بڑی سرخیاں بن جاتیںجس پر صحافی کیٹلین کولنز نے کہا کہ ایپسٹین کے ہاتھوں متاثر ہونے والی خواتین اس بات پر ناخوش ہیں کہ آپ کے محکمہ انصاف نے دستاویز میں سے کئیوں کی شناخت چھپانے کیلئے انھیں سیاہ کر دئیے ہیں۔صدر ٹرمپ نے گفتگو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے اب ملک کو کسی اور چیز کی طرف بڑھ جانا چاہیے خاص طور پر جب میرے بارے میں کچھ نہیں نکلا۔امریکی صدر نے خاتون صحافی کیٹلین کولنز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ بدترین رپورٹر ہیں، میں نے آپ کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا، آپ سچ نہیں بول رہیں اور آپ کا ادارہ بے حد غیر دیانت دار ہے۔
جس پر خاتون صحافی کولنز نے جواب دیا کہ جناب صدر میں ایپسٹین جنسی اسکینڈل کے متاثرین کے بارے میں سوال پوچھ رہی ہوںتاہم صدر ٹرمپ نے سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنا رخ موڑ لیا اور دوسرے رپورٹر کو سوال کرنے کا موقع دے دیا جس سے موضوع بدل گیا۔بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس مکالمے کی ویڈیو شیئر کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ صدر نے رپورٹر کو سخت جواب دیا۔















































