اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ٹیسلا اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے مالک اور دنیا کے امیر ترین فرد ایلون مسک نے میسجنگ ایپ واٹس ایپ کی سکیورٹی پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ نہ صرف واٹس ایپ محفوظ نہیں بلکہ سگنل جیسی ایپس کو بھی مکمل طور پر سکیور نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایکس چیٹ ان تمام میسجنگ ایپس کے مقابلے میں زیادہ محفوظ متبادل فراہم کرتی ہے۔ایلون مسک کی یہ رائے اس وقت سامنے آئی جب امریکا کی ایک عدالت میں واٹس ایپ کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا گیا، جس میں ایپ کے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے دعوؤں کو چیلنج کیا گیا ہے۔
مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ میٹا اور واٹس ایپ ممکنہ طور پر صارفین کے نجی پیغامات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے صارفین کی پرائیویسی متاثر ہو سکتی ہے۔یہ کیس آسٹریلیا، میکسیکو اور جنوبی افریقہ سمیت مختلف ممالک کے صارفین کی جانب سے دائر کیا گیا ہے، جن کا مؤقف ہے کہ واٹس ایپ میں دعویٰ کردہ سکیورٹی تحفظ مؤثر طور پر موجود نہیں۔درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا کہ میٹا کے بعض ملازمین صارفین کے پرائیویٹ میسجز دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس دعوے کی بنیاد میٹا کے ایک نامعلوم وہسل بلوئر کے بیان پر رکھی گئی ہے، جس نے کہا تھا کہ کمپنی کے اندرونی سسٹمز انکرپشن کو بائی پاس کر کے پیغامات تک رسائی دے سکتے ہیں۔
مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ رسائی غیر معینہ مدت تک ممکن ہو سکتی ہے، جس کے باعث ملازمین مکمل چیٹ ہسٹری، حتیٰ کہ حذف شدہ پیغامات بھی دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم عدالتی دستاویزات میں ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس تکنیکی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔دوسری جانب میٹا نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔















































