جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ریچھ اور اس کے 3 بچے نوجوان لڑکی کو زندہ کھاتے رہے، فون پر ماں اپنی بیٹی کی چیخیں سنتی رہی، دل دہلا دینے والی تفصیلات

datetime 4  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)روس میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں 19 سالہ اولگا موسکالیووا کو ایک خونخوار بھورے ریچھ اور اس کے تین بچوں نے بے دردی سے مار ڈالا۔ لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ فون پر بات کر رہی تھی اور ریچھ اسے زندہ ہی کھا رہے تھے۔ڈیلی سٹار کے مطابق یہ المناک واقعہ ایک دریا کے قریب پیش آیا جہاں اولگا اپنے سوتیلے والد ایگور تیسیگانینکوف کے ساتھ موجود تھی۔ اچانک ایک خوفناک ریچھ نے حملہ کر دیا اور ایگور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ ریچھ نے اس کی گردن توڑ دی اور اس کا سر کچل ڈالا۔

اولگا نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی لیکن وہ صرف 70 گز ہی بھاگ پائی کہ مادہ ریچھ نے اس پر حملہ کر دیا۔ اس دوران اس نے اپنی ماں تاتیانا کو فون کیا اور جو گفتگو ہوئی وہ کسی بھی ماں کے لیے سب سے بھیانک خواب سے کم نہیں۔تاتیانا نے ابتدا میں سوچا کہ بیٹی مذاق کر رہی ہے لیکن جب ریچھ کی گرج اور چبانے کی آوازیں سنیں، تو حقیقت کا ادراک ہوا۔ تاتیانا نے بعد میں میڈیا کو بتایا”میں نے اپنی بیٹی کی چیخیں سنیں، اس کی اذیت محسوس کی، میں وہیں صدمے سے مر سکتی تھی۔”

کچھ دیر بعد اولگا نے ایک اور فون کال کی، جس میں اس کی آواز کانپ رہی تھی “ماں، ریچھ واپس آ گیا ہے، وہ اپنے تین بچوں کو بھی لے آئی ہے، وہ مجھے کھا رہے ہیں۔”یہ الفاظ تاتیانا کے لیے ناقابل برداشت تھے، لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹہ بعد اولگا نے آخری بار فون کیا۔ اس کی آواز کمزور ہو چکی تھی، اور اس نے کہا “ماں، اب درد محسوس نہیں ہو رہا، مجھے معاف کر دینا، میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔” یہ اولگا کے آخری الفاظ تھے۔ اس کے بعد فون منقطع ہو گیا، اور تاتیانا نے اپنی بیٹی کی آخری سانس فون پر سنی۔ جب ریسکیو ٹیم پہنچی تو اولگا کی لاش ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی، اور خونخوار ریچھ اس کی باقیات کے قریب گھوم رہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…