پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

حسینہ واجد نے بطوروزیراعظم استعفیٰ نہیں دیا،بیٹے صجیب کا دعویٰ

datetime 10  اگست‬‮  2024 |

لندن(این این آئی )بنگلہ دیش کی مفرور وزیراعظم حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت روانگی سے قبل ان کی والدہ نے بطور وزیراعظم باضابطہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا تھا۔برطانوی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت روانگی سے قبل ان کی والدہ نے بطور وزیراعظم باضابطہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا تھا۔

واشنگٹن میں دیے گئے اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میری والدہ نے آفیشلی استعفیٰ دیا اور نہ ہی انہیں اس کا وقت مل سکا تھا۔صجیب واجد کا کہنا تھا کہ انکی والدہ نے استعفیٰ دینے کا ارادہ کیا تھا اور وہ اس سلسلے میں اپنا بیان ریکارڈ کروانا چاہ رہی تھیں لیکن پھر مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی شروع کردی جس کے بعد انہیں بیان ریکارڈ کرنے یا استعفیٰ دینا تو دور اپنا سامان اٹھانے کی مہلت بھی نہیں ملی۔انہوں نے کہا کہ صدر نے عسکری حکام اور حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کے بعد اسمبلی تحلیل کردی اور وزیراعظم کے باضابطہ استعفیٰ کے بغیر ہی نگران حکومت قائم کردی ہے، آئینی اعتبار سے حسینہ واجد اب بھی بنگلادیش کی وزیراعظم ہیں اور صدر کے اقدامات کو قانونی طور پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

صجیب واجد کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت اگلے تین ماہ تک انتخابات کا اعلان ہو جانا چاہیے، حسینہ واجد کی پارٹی عوامی لیگ آئندہ انتخابات میں حصہ لے گی، انہیں یقین ہے کہ وہ اقتدار میں آجائیں گے لیکن اگر نہیں بھی آئے تو وہ حزب اختلاف میں بیٹھیں گے۔انہوں نے بنگلادیش کی سابق وزیراعظم اور حزب مخالف کی رہنما خالدہ ضیا کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ خالدہ ضیا کا بیان خوش آئندہ ہے کہ جو ہو گیا سو ہوگیا، اب ہمیں انتقام کی سیاست نہیں کرنی۔صجیب واجد نے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کو بھول کر ہمیں انتقام کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا اور مل کر کام کرنا ہوگا پھر چاہے وہ اتحادی حکومت کی صورت میں ہو یا انفرادی سیاست ہو، ہمیں پرامن جمہوریت اور آزاد اور شفاف انتخابات پر یقین ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…