ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

حسینہ واجد نے بطوروزیراعظم استعفیٰ نہیں دیا،بیٹے صجیب کا دعویٰ

datetime 10  اگست‬‮  2024 |

لندن(این این آئی )بنگلہ دیش کی مفرور وزیراعظم حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت روانگی سے قبل ان کی والدہ نے بطور وزیراعظم باضابطہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا تھا۔برطانوی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت روانگی سے قبل ان کی والدہ نے بطور وزیراعظم باضابطہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا تھا۔

واشنگٹن میں دیے گئے اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میری والدہ نے آفیشلی استعفیٰ دیا اور نہ ہی انہیں اس کا وقت مل سکا تھا۔صجیب واجد کا کہنا تھا کہ انکی والدہ نے استعفیٰ دینے کا ارادہ کیا تھا اور وہ اس سلسلے میں اپنا بیان ریکارڈ کروانا چاہ رہی تھیں لیکن پھر مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی شروع کردی جس کے بعد انہیں بیان ریکارڈ کرنے یا استعفیٰ دینا تو دور اپنا سامان اٹھانے کی مہلت بھی نہیں ملی۔انہوں نے کہا کہ صدر نے عسکری حکام اور حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کے بعد اسمبلی تحلیل کردی اور وزیراعظم کے باضابطہ استعفیٰ کے بغیر ہی نگران حکومت قائم کردی ہے، آئینی اعتبار سے حسینہ واجد اب بھی بنگلادیش کی وزیراعظم ہیں اور صدر کے اقدامات کو قانونی طور پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

صجیب واجد کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت اگلے تین ماہ تک انتخابات کا اعلان ہو جانا چاہیے، حسینہ واجد کی پارٹی عوامی لیگ آئندہ انتخابات میں حصہ لے گی، انہیں یقین ہے کہ وہ اقتدار میں آجائیں گے لیکن اگر نہیں بھی آئے تو وہ حزب اختلاف میں بیٹھیں گے۔انہوں نے بنگلادیش کی سابق وزیراعظم اور حزب مخالف کی رہنما خالدہ ضیا کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ خالدہ ضیا کا بیان خوش آئندہ ہے کہ جو ہو گیا سو ہوگیا، اب ہمیں انتقام کی سیاست نہیں کرنی۔صجیب واجد نے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کو بھول کر ہمیں انتقام کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا اور مل کر کام کرنا ہوگا پھر چاہے وہ اتحادی حکومت کی صورت میں ہو یا انفرادی سیاست ہو، ہمیں پرامن جمہوریت اور آزاد اور شفاف انتخابات پر یقین ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…