جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

دنیا کے امیرترین افراد کی مجموعی دولت سے بھی زیادہ امیر خاتون کا نام سامنے آگیا

datetime 29  جولائی  2024
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بیجنگ (این این آئی)دنیا کی تاریخ میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے جو موجودہ سرفہرست ارب پتی ایلون مسک، جیف بیزوز اور مکیش امبانی سمیت دیگر امیر ترین افراد کی مجموعی دولت سے بھی زیادہ دولت مند تھیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق حیرت انگیز طور پر اس طرح کی شخصیت کے حوالے سے تاریخ نے چین سے تعلق رکھنے والی امیر ترین خاتون ایمپریس ووکا حوالہ دیا ہے۔چین پر 618 سے 907 عیسوی تک حکمرانی کرنے والا تانگ خاندان کی ایمپریس وو کے پاس اب تک تاریخ میں دنیا کی امیر ترین خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور ان کی دولت کا حجم ایک اندازے کے مطابق غیرمعمولی طور پر 16 ٹریلین امریکی ڈالر ہے۔

ایمپریس وو کی دولت کے یہ اعداد وشمار اس وقت دنیا کے امیرترین افراد میں شامل ایلون مسک، مکیش امبانی، جیف بیزوز، گوتم اڈانی اور دیگر کئی کی مجموعی دولت سے کہیں زیادہ ہیں۔جب دنیا کے امیر ترین افراد کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو موجودہ شخصیات ایلون مسک، لوئس ویٹون کے مالک برنارڈ آرنالٹ، ایمیزون کے بانی جیف بیزوز اور بھارت کے امیر ترین کاروباری شخصیت مکیش امبانی کا نام ذہن میں آتا ہے لیکن ایمپریس وو کی غیرمعمولی دولت کے علم بہت کم لوگوں کو ہے حالانکہ ان کی دولت ان سب کی مشترکہ دولت سے بھی زیادہ ہے۔

ایمپریس وو کے 16 ٹریلین ڈالر کے مقابلے میں ایلون مسک کی دولت 229 ارب ڈالر، بیزوز کی 174 ارب ڈالر اور مکیش امبانی کی دولت 106.2 ارب ڈالر ہے۔مورخین کے مطابق ایمرپیس وو ایک چالاک اور طاقت ور ترین حکمران تھیں، جنہوں نے اپنی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے مختلف حکمت عملی اپنائی اور اپنا تسلط قائم رکھا۔متعدد مورخین کا خیال ہے کہ ایمپریس وو نے حکمرانی کے لیے اپنے بچوں کا بھی خاتمہ کردیا لیکن ان کی حکمرانی تقریبا 15 برس تک برقرار رہی تاہم اس دوران چینی بادشاہت کی توسیع وسطی ایشیا تک ہوگئی تھی۔ایمپریس وو کے دور میں چین کی معیشت کو فروغ ملا، جس میں اہم تجارت چائے اور سلک کی تھی، ان کی معاشی کامیابی سے چین کی خوش حالی کا اشارہ ملتا ہے۔دنیا کے طاقت ور ترین حکمران اور امیر ترین بادشاہ تاریخ میں زندہ ہونے کے باوجود آج کے ارب پتی افراد کے مقابلے میں غیرمعروف ہوچکے ہیں اور دنیا ان کے نام سے بھی واقف نہیں سوائے چند مورخین اور تاریخ کے طالب علموں کے کوئی بھی چین کی امیرترین حکمران سے لاعلم نظر آتی ہے۔



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…