منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

2023 مہلک سال ثابت،8565مہاجرین ہلاک

datetime 7  مارچ‬‮  2024 |

نیویارک(این این آئی)ایک دردناک اعلان میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے بتایا ہے سال 2023 میں دنیا بھر میں نقل مکانی کے راستوں پر کم از کم 8,565 افراد ہلاک ہوئے جس کی وجہ سے یہ سال ایک دہائی کا مہلک سال بن گیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ 2023 میں ہلاکتوں کی تعداد 2022 کے مقابلے میں 20 فیصد کے المناک اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ سال اموات کی کل تعداد 2016 میں ریکارڈ کیے گئے پچھلے ریکارڈ سے زیادہ تھی جب 8,084 تارکین وطن ہلاک ہوئے تھے۔جبکہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے تصدیق کی کہ محفوظ اور قانونی ہجرت کے راستے اب بھی کم ہیں جو ہر سال لاکھوں افراد کو خطرناک حالات میں اس تجربے سے گذرنے پر مجبور کرتے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسنگ مائیگرنٹس پروجیکٹ کی طرف سے جمع کی گئی یہ خوفناک تعداد ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ سب کے لیے محفوظ ہجرت کو یقینی بنانے کے لیے مزید کوششیں کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل کے 10 سالوں میں لوگوں کو بہتر کی تلاش میں اپنی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالنا پڑے۔

بحیرہ روم کو عبور کرنا تارکین وطن کے لیے سب سے مہلک راستہ ہے، جہاں گذشتہ سال کم از کم 3,129 اموات اور تارکین وطن کے لاپتہ ہونے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔پچھلے سال نصف سے زیادہ اموات تارکین وطن کے ڈوبنے سے ہوئیں، 9 فی صد کار حادثات کی وجہ سے اور 7 فی صد تشدد کی وجہ سے ہوئیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کا مسنگ مائیگرنٹس پروجیکٹ جو 2014 میں قائم کیا گیا تھا ایک کھلا ڈیٹا بیس ہے جو تارکین وطن کی اموات اور لاپتہ ہونے کے واقعات کو ریکارڈ کرتا ہے۔اس پروجیکٹ کے نفاذ کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں 63,000 سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…