نیٹو نے روس سے بڑی جنگ کی تیاری شروع کردی

7  فروری‬‮  2024

کیف(این این آئی)یوکرین میں جاری جنگ میں روس کی برتری کے آثار نمایاں ہونے پر یورپ نے حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے روس سے کسی ممکنہ بڑی جنگ کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق معاہدہ شمالی بحرِ اوقیانوس کے جرنیلوں نے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ روس کی راہ روکنے کے لیے لازم ہے کہ ڈیٹرنس کی صلاحیت بڑھانے کی خاطر دفاع کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔یوکرین کی تیزی سے گھٹتی ہوئی دفاعی قوت نے نیٹو کے ارکان کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

یوکرین میں روس کی مکمل فتح مشرقی یورپ میں اس کے ہم خیال ممالک کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا اور مغربی یورپ کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔نیٹو کے اعلی ترین جرنیلوں نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ یوکرین کی جنگ میں بہت کچھ الٹ پلٹ رہا ہے۔ ایسے میں روس سے نپٹنے کے لیے نیٹو کے تمام ارکان کو تیار رہنا پڑے گا۔ہالینڈ کے ایڈمرل راب بوئر نے کہاکہ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ جنگ اگرچہ یوکرین میں جاری ہے مگر ہم بھی ایک خاص تک حالتِ جنگ ہی میں ہیں۔ ایک ہائی لیول میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں نیٹو ملٹری کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل راب بوئر نے کہا کہ نیٹو کے ارکان کو کسی بھی صورتِ حال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔نارویجین مسلح افواج کے سربراہ جنرل آئرک کرسٹوفرسن کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اب زیادہ وقت نہیں۔

روس یا کسی بھی اور بڑی طاقت کے خلاف ہمیں ڈیٹرنس مضبوط کرنے کے لیے غیر معمولی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ دو یا تین سال میں دفاع کے حوالے سے فنڈنگ میں نمایاں اضافہ ہونا چاہیے۔سوئیڈن کی مسلح افوان کے کمانڈر انچیف مائیکل بائڈن نے کہا کہ روس ایک بڑا خطرہ بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ سوال صرف سمجھنے کا نہیں، کچھ کرنے کا بھی ہے۔ اب روس کی راہ روکنے کے لیے کچھ نہ کچھ ٹھوس تو کرنا ہی پڑے گا۔یورپی سیاسی قائدین پر بھی روس کے حوالے سے کچھ کرنے کے لیے دبا میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے سلامتی کے امور کے ماہر نکو لینج کہتے ہیں کہ مغرب کی طرف سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہم تواتر سے جاری رہے اور دیگر معاملات میں بھی مدد کی جائے تب ہی جنگ کے جلد ختم ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…