جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

نیٹو نے روس سے بڑی جنگ کی تیاری شروع کردی

datetime 7  فروری‬‮  2024 |

کیف(این این آئی)یوکرین میں جاری جنگ میں روس کی برتری کے آثار نمایاں ہونے پر یورپ نے حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے روس سے کسی ممکنہ بڑی جنگ کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق معاہدہ شمالی بحرِ اوقیانوس کے جرنیلوں نے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ روس کی راہ روکنے کے لیے لازم ہے کہ ڈیٹرنس کی صلاحیت بڑھانے کی خاطر دفاع کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔یوکرین کی تیزی سے گھٹتی ہوئی دفاعی قوت نے نیٹو کے ارکان کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

یوکرین میں روس کی مکمل فتح مشرقی یورپ میں اس کے ہم خیال ممالک کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا اور مغربی یورپ کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔نیٹو کے اعلی ترین جرنیلوں نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ یوکرین کی جنگ میں بہت کچھ الٹ پلٹ رہا ہے۔ ایسے میں روس سے نپٹنے کے لیے نیٹو کے تمام ارکان کو تیار رہنا پڑے گا۔ہالینڈ کے ایڈمرل راب بوئر نے کہاکہ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ جنگ اگرچہ یوکرین میں جاری ہے مگر ہم بھی ایک خاص تک حالتِ جنگ ہی میں ہیں۔ ایک ہائی لیول میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں نیٹو ملٹری کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل راب بوئر نے کہا کہ نیٹو کے ارکان کو کسی بھی صورتِ حال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔نارویجین مسلح افواج کے سربراہ جنرل آئرک کرسٹوفرسن کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اب زیادہ وقت نہیں۔

روس یا کسی بھی اور بڑی طاقت کے خلاف ہمیں ڈیٹرنس مضبوط کرنے کے لیے غیر معمولی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ دو یا تین سال میں دفاع کے حوالے سے فنڈنگ میں نمایاں اضافہ ہونا چاہیے۔سوئیڈن کی مسلح افوان کے کمانڈر انچیف مائیکل بائڈن نے کہا کہ روس ایک بڑا خطرہ بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ سوال صرف سمجھنے کا نہیں، کچھ کرنے کا بھی ہے۔ اب روس کی راہ روکنے کے لیے کچھ نہ کچھ ٹھوس تو کرنا ہی پڑے گا۔یورپی سیاسی قائدین پر بھی روس کے حوالے سے کچھ کرنے کے لیے دبا میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے سلامتی کے امور کے ماہر نکو لینج کہتے ہیں کہ مغرب کی طرف سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہم تواتر سے جاری رہے اور دیگر معاملات میں بھی مدد کی جائے تب ہی جنگ کے جلد ختم ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…