جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا بھی ایک مخلوق ہے جسے جینے کا پورا حق ہے، بھارتی رہنما کی منطق

datetime 17  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے رہنما راوت نے ایک مقامی ٹی وی چینل سے بات چیت میں کہا کہ وائرس ایک جیتی جاگتی مخلوق ہے اور اسے جینے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا،فلسفیانہ زاویے سے دیکھا جائے، تو کورونا وائرس ایک زندہ مخلوق ہے

اور اسے بھی جینے کا اتنا ہی حق حاصل ہے، جیسا کسی دوسری مخلوق کو۔ مگر ہم (انسانوں) کو لگتا کہ ہم بہت ذہنی ہیں اور ہم اسے ختم کرنے نکل پڑتے ہیں۔ڈوئچے ویلے کی رپورٹ کےمطابق اس لیے وائرس کو (زندہ رہنے کے لیے) مسلسل اپنی شکل بندلنا پڑتی ہے۔‘‘ راوت کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب بھارت کورونا وائرس کے نئے انفیکشنز کے اعتبار سے دنیا میں سب سے آگے ہے۔ بھارت میں گزشتہ کئی روز سے روازنہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد کورونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں، جب کہ وہاں یومیہ ہلاکتیں بھی ہزاروں ميں دیکھی جا رہی ہے۔ بھارت ميں گزشتہ چوبيس گھنٹوں کے دوران کورونا کے کيسز ميں 343,144 کا اضافہ ديکھا گيا اور اب متاثرين کی مجموعی تعداد چوبيس ملين سے تجاوز کر گئی ہے۔ مسلسل تيسرے دن چار ہزار سے زائد اموات بھی ريکارڈ کی گئيں، جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 262,317 ہو گئی ہے۔ بھارت ميں پائی جانے والی کووڈ کی قسم اب آٹھ ممالک تک پھيل چکی ہے۔ واضح رہے کہ دنيا بھر ميں کورونا کی وجہ سے اب تک 3.34 ملين افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔ راوت کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر زبردست بحث جاری ہے جب کہ انہیں مختلف جملوں کے ذریعے ٹرول کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…