جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں کورونا سے ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ شمشان گھاٹ میں گنجائش ختم، 20گنا زیادہ رقم وصول

datetime 21  اپریل‬‮  2021 |

نئی دہلی (این این آئی )بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز اور ہلاکتوں میں تیزی سے اضافے کے بعد شمشان گھاٹ اورقبرستانوں میں مردوں کے دفنانوں کے لیے جگہ کم پڑنے لگی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری ہلاکت خیز لہر کے دوران گزشتہ ایک ہفتے سے متاثرین کی ہلاکتوں میں تیزی آگئی ہے اور گورکنوں

کا کام بڑھ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے جدید قبرستان اور شمشان گھاٹ میں تین گھنٹوں کے دوران 11 لاشیں دفنانے کے لیے لائی گئیں جہاں اب ایک ہفتے کا لاک ڈائون نافذ کردیا گیا ہے۔نئی دہلی میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ برس دسمبر اور رواں سال جنوری کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے برابر ہوگئی ہے جب زمین کھودنے والی مشین بھی سست پڑ جاتی تھی۔گورکن کا کہنا تھا کہ اب ایسا لگ رہا ہے کہ وائرس کی ٹانگیں ہیں، اس شرح پر میرے پاس تین یا 4 روز میں جگہ ختم ہوجائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ دو روز قبل میرے پاس ایک شہری آیا اور کہا کہ انہیں اپنی والدہ کے لیے قبر تیار کروانی ہے کیونکہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے، یہ غیر حقیقی تھا اور میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایسا دن بھی دیکھوں گا جب مجھے ایک زندہ شخص کے حوالے سے تدفین کی تیاریاں شروع کرنے کی درخواست کی جائے گی۔خیال رہے کہ بھارت میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کورونا وائرس سے اب تک ایک

لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ان میں سے 15 ہزار رواں ماہ انتقال کرگئے ہیں۔دوسری جانب خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ بھارت میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔سوشل میڈیا اور اخباروں میں خوف ناک تصاویر گردش کر رہی ہیں جس

میں ہلاک افراد کی آخری رسومات کے لیے پیش آنے والی مشکلات کو دکھایا گیا ہے۔نئی دہلی سے باہر غازی آباد سے سامنے آنے والی تصاویر میں لاشوں کو دفنانے کے لیے رکھا ہوا ہے جہاں ان کے لواحقین غم سے نڈھال ہیں۔ریاست گجرات کے شہر صورت، راجکوٹ، جام نگر

اور احمد آباد میں بھی حالات اسی طرح کے ہیں جہاں عام حالات کے مقابلے میں تین سے 4 گنا زیادہ لاشیں دفنانے کے لیے لائی جارہی ہیں۔ لکھنو میں شمشان گھاٹ میں مردوں کی آخری رسومات کے لیے ان کے لواحقین 12 گھنٹے طویل انتظار کر رہے ہیں اور ایک شمشان گھاٹ کی

انتظامیہ نے قریبی پارک میں ہی مردوں کو جلانا شروع کردیا ہے۔کورونا سے انتقال کرنے والے شہری کے بیٹے روہیت سنگھ کا کہنا تھا کہ شمشان گھاٹ کی انتظامیہ 7 ہزار بھارتی روپے لے رہی ہے جو معمول سے 20 گنا زیادہ ہیں۔بھارت کے مشہور شمشان گھاٹ میں کام کرنے والے بیل بھادرا کا کہنا تھا کہ وہ روزانہ مبینہ طور پر کورونا سے متاثرہو کر ہلاک ہونے والے 200 مردوں کو جلاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…