جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کوروناوائرس سے بھی زیادہ خوفناک بیماری آنیوالی ہے ایبولا دریافت کرنے والے سائنسدان نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 24  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایبولا وائرس کی دریافت میں مدد کرنے والے سائنسدان نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تباہ کاری اور ایسی گوشت کی مارکیٹیں جن میں صحت و صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا، نئی وبائوں کو جنم دے رہی ہیں اور بہت جلد یہ عوامل ایک ایسی وباکا سبب بنیں گے

جو کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہو گی۔پروفیسر جین جیکوئس 1976سے خطرناک وائرسز کی دریافت اور پہچان کرنے کے لیے فرنٹ لائن پر کام کر رہے ہیں۔ کانگو کے دارالحکومت کنشاسا میں واقع انسٹیٹیوٹ نیشنل ڈی ریشارشے بائیومیڈیکل کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایبولا اور کورونا وائرس جیسی ایک نہیں بلکہ کئی وبائیں آ سکتی ہیں۔ ہماری آج کی دنیا ایسی دنیا بن چکی ہے جس میں کسی بھی وقت کوئی خوفناک وائرس پھیل سکتا ہے اورکورونا وائرس سے بھی بڑی تباہی لا سکتا ہے۔ مستقبل میں ان وبائوں کے پھیلنے کا خطرہ کم کرنے کے لیے ہمیں کڑے اقدامات کرنے ہوں گے۔ بالخصوص ہمیں ماحولیاتی تباہ کاری کو روکنا ہو گا اورگوشت مارکیٹوں کو حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند کرنا ہو گا۔دوسری جانب یورپی کمیشن کی جانب سے بائیو ٹیک اور فائزر کی تیار ویکسین کی مارکیٹنگ کی اجازت دی گئی ہے، یورپی میڈیسن ایجنسی کی سفارشات کے بعد لگنے والی یہ پہلی ویکسین ہوگی۔

صدر یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ ویکسین برابری کی سطح پر تمام ممالک کیلئے دستیاب ہوگی، ویکسین کی تیاری اور تقسیم یورپی اتحاد کی علامت ہے۔ صدر یورپی کمیشن نے کہا کہ یورپی یونین میں 27 دسمبر سے ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوگا جبکہ ویکسین کی ترسیل جنوری 2021 سے مستقل ہفتہ وار بنیادوں پر جاری رہے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیلجیئم میں پہلی بار کرونا ویکسین 96 سالہ جوزہرمنس کو لگائی جائے گی، فائزر کی فیکٹری سے ویکسین یورپین ممالک کیلیے پولیس کے ہمراہ روانہ کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…