جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت نے سکھوں کو باباگرونانک کی جنم دن کی تقریبات میں شرکت سے روک دیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

نئی دہلی /اسلام آباد (این این آئی)مودی سرکار نے سکھوں کو کرتارپور میں باباگرونانک کی جنم دن کی تقریبات میں شرکت سے روک دیا ہے جس سے بھارت میں سیکولرازم کے نام نہاد دعوؤں کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے،سکھوں کے روحانی پیشواباباگورو نانک کے یوم پیدائش اورکرتارپور راہداری کو ایک سال مکمل ہونے پرکرتارپور میں مختلف تقریبات کااہتمام کیاگیا ۔ باباگرونانک کی

جنم دن کی تقریبات کے موقع پر ملک بھرسے سکھ یاتریوں کی کرتار پور آنے کا سلسلہ جاری ہے،اس موقع پرکرتار پور راہداری کے افتتاح کے ایک سال مکمل ہونے پر بھی خصوصی تقریبات کا اہتمام کیاگیا ہے۔گوردوارہ کرتار پور صاحب میں کورونا ایس او پیز کے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں تاہم بھارت کی جانب سے سکھوں کو کرتارپور میں بابا گرونانک کی جنم دن کی تقریبات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔اس حوالے سے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کرتار پور راہدری کے تاریخی افتتاح کا ایک سال مکمل ہو گیا، کرتار پور راہدری کا افتتاح کرکے سکھ برادری کی دیرینہ خواہش کو پورا کیاگیا۔دفترخارجہ کے مطابق کرتار ہور راہداری بین المذاہب ہم آہنگی اور اتحاد کی حقیقی علامت ہے، یو این سیکرٹری جنرل نے کرتار پور راہدری کا دورہ کیا اور امید کی کرن قرار دیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق کورونا کے باعث 16 مارچ کو راہدری کو عارضی طور پر بند کیا گیا تھا، پاکستان نے 29 جون کو کورونا ایس او پیز کے تحت کرتار پور راہدری کو کھول دیا تھا، بھارت کی جانب سے اب تک کرتار پور راہدری کو نہیں کھولا گیا۔خیال رہے کہ گزشتہ سال آج ہی کے دن وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا تھا۔کرتارپور گوردوارہ ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ میں واقع ہے جو بھارتی سرحد سے چندکلومیٹر کی دوری پر ہے، یہ گوردوارہ 1539میں قائم کیاگیا تھا،

باباگرونانک نے وفات سے قبل 18 برس اس جگہ قیام کیا اورگرونانک کا انتقال بھی کرتارپور میں اسی جگہ پر ہوا۔کرتارپور راہداری کی تعمیر سے قبل بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو کرتارپور تک پہنچنے کے لیے پہلے لاہور اور پھر تقریباً 130 کلومیٹرکا سفرطیکرکینارووال پہنچنا پڑتاتھاجب کہ بھارتی حدود سے کرتارپور صرف 3 سے 4کلو میٹر دوری پر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…