50 ہزار درہم، مرسیڈیز کار، رولیکس گھڑی اور 2 ہزار درہم کی ماہانہ تنخواہ دبئی میں گرفتار پاکستانی شخص کی رہائی کے بدلے پولیس کو حیران کن پیشکش پھر آگے کیا ہوا؟اہلکاربھی منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے

  بدھ‬‮ 28 اکتوبر‬‮ 2020  |  12:45

دبئی (این این آئی)دبئی میں گرفتار پاکستانی نے جیل سے فرار کروانے کیلئے پولیس اہلکار کو مرسیڈیز، رولیکس اور خطیر رقم کی آفر کر کے سب کو حیران کردیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی پولیس نے ایک پاکستانی شخص کو گرفتار کیا جو امارات سے ڈی پورٹ ہونےکے بعد غیر قانونی طریقے سے دوبارہ یہاں پہنچ گیا تھا۔ ملزم کو تھانے لایا گیا تو اس نے گرفتار کرنے والے پولیس اہلکار کو پیشکش کی کہ اگر اسے تھانے سے مقدمے کا اندراج کیے بغیر جانے دیاجائے گا تو اسے بدلے میں 50 ہزار درہم، مرسیڈیز کار، رولیکس گھڑی اور


2 ہزار درہم کی ماہانہ تنخواہ بھی بطور رشوت دی جائے گی۔اتنی بڑی آفر سن کر بڑے سے بڑے ایماندار افراد کا ایمان ڈول جاتا ہے تاہم اس پولیس اہلکار نے فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پولیس اسٹیشن کے ڈائریکٹر کو ملزم کی پیشکش سے آگاہ کر دیا۔پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو امارات میں غیر قانونی طور پر امارات داخل ہونے کے جرم میں جون 2020 میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس افسر کے مطابق پولیس اسٹیشن میں ملزم نے عربی زبان میں مجھے آفر کی کہ اگر میں اسے فرار کروا دوں گا تو وہ اس مہربانی کے بدلے مجھے مرسیڈیز، رولیکس واچ، پچاس ہزار درہم کے علاوہ ہر ماہ مزید رقم بطور رشوت دے گا تاکہ آئندہ کبھی گرفتاری کی صورت میں بھیمیں اسے فرار کروا سکوں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میں نے اپنے سینیئر افسر کو آگاہ کیا تو انہوں نے مجھے اس شخص کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے کی ہدایت کی، میں نے 40 سالہ ملزم کے سامنے ظاہری طور پر رشوت قبول کرنے کی ہامی بھر لی۔ جس کے بعد ملزم نے کسیکو فون کر کے کہا کہ وہ فوری طور پر بر دبئی تھانے میں 15 ہزار درہم کی رقم لے کر پہنچ جائے، چند منٹوں بعد دو پاکستانی رقم لے کر پہنچ گئے تو انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔سرکاری استغاثہ نے تینوں پاکستانی ملزمان پر رشوت کی پیشکش کے الزام کے تحت فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ مقدمے کی اگلی سماعت 25 نومبرکو ہو گی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎