گستاخانہ خاکہ دکھانے پر استاد کے مارے جانے کے بعد کریک ڈائون،فرانس میں مسجد بند کرنے کا حکم، مسجد انتظامیہ پر حیرت انگیز الزام

  جمعرات‬‮ 22 اکتوبر‬‮ 2020  |  23:44

پیرس(این این آئی ) فرانس میں طلبا کو گستاخانہ خاکے دکھانے والے ٹیچر کے مارے جانے کے بعد کیے جانے والے کریک ڈائون میں ایک مسجد کو 6 ماہ کے لیے جبرا بند کردیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں پر ٹیچر کے مارے جانے کے بعد کریک ڈائون آپریشن کیا جا رہا ہے جس کے تحت پیرس کے نواحی علاقے پینٹین کی گرینڈ مسجد کو عارضی طور پر 6 ماہ کے لیے بند کردیا گیا ہے۔مسجد کے دروازے پر چسپاں کیے جانے والے سرکاری حکم نامے میں


الزام عائد کیا گیا کہ مسجد انتظامیہ نے فیس بک پیج پر ایک ایسی تقریر شیئر کی گئی تھی جس میں اسکول ٹیچر کو مارنے پر مبینہ طور پر اکسایا گیا تھا۔کریک ڈائون کے دوران پولیس نے ایک ایسے شخص کو بھی حراست میں لے لیا جس نے ٹیچر کومارنے والے نوجوان سے واٹس ایپ پر رابطہ کیا تھا اور مقتول ٹیچر کی اسکول برخاستگی کے لیے آن لائن مہم بھی چلائی تھی۔واضح رہے کہ فرانس میں 18 سالہ نوجوان نے اسکول ٹیچر کو لیکچر کے دوران پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکے دکھانے پر چھری کے وار کرکے ماردیا تھا جس کے بعد پولیس نے نوجوان کو تعاقب کے بعد گولی مار کر شہید کردیا تھا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎