جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

لندن کے پارک میں سیاحوں کو گالیاں دینے والا طوطا پاکستان کے کس شہر پہنچ گیا؟ہر کوئی بے صبری سے سننے کا منتظر

datetime 5  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد، لندن(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) لندن میں نایاب نسل کا گالیاں دینے والا ایک طوطا سابق نائب صدر کنٹونمنٹ بورڈ شاہد علی شیخ نے خرید لیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن میں لوگوں کو گالیاں دینے والا اایک  طوطا سابق نائب صدر کنٹونمنٹ بورڈ نے خرید لیا ہے۔

شاہدعلی شیخ نے لاکھوں روپے مالیت کا نایاب طوطا خریدا، افریقن گرے نسلی طوطا دنیا میں سب سے زیادہ نایاب ہے۔یاد رہے کہ برطانیہ کے ایک فیملی سفاری پارک سے گزشتہ دنوں پانچ سرمئی افریقی طوطوں کو نکال باہر کیا گیا تھاکیونکہ وہ نہ صرف بہت گالیاں بکنے لگے تھے بلکہ گالیاں دینے کے بعد زور زور سے ہنستے بھی تھے۔خبروں کے مطابق، یہ افریقی طوطے 15 اگست کے روز اس فیملی سفاری پارک میں لائے گئے لیکن قرنطینہ/ لاک ڈائون کی وجہ سے یہ پارک عام لوگوں کیلیے بند تھا، لہذا پارک کے ملازمین نے انہیں ایک کمرے میں دیگر پرندوں کے ساتھ رکھ دیا۔ملازمین جانتے تھے کہ یہ افریقی طوطے انسانی آوازوں کی نقل کرنا بہت جلد سیکھ جاتیہیں، اس لیے اپنی فراغت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ طوطوں کے سامنے گالیاں بکتے اور پھر زور زور سے ہنستے۔ان کی دیکھا دیکھی طوطے بھی ایسا ہی کرنے لگے اور یوں سفاری پارک کے ملازمین کو ایک نئی تفریح مل گئی۔ چند دنوں میں یہ طوطے بڑی روانی کے ساتھ خود ہی گالیاں دینے لگے۔

خاص کر جیسے ہی کوئی انسان ان کے سامنے آتا، ان کی چونچ سے گالیوں بھری آوازیں اور پھر قہقہے بلند ہونے لگتے۔گزشتہ ہفتے یہ سفاری پارک محدود طور پر شہریوں کیلیے کھول دیا گیا تاہم ابھی تک یہاں بچوں کے داخلے پر پابندی ہے۔ تفریح کی غرض سے آنے والے لوگوں کو دیکھ

کر طوطوں نے معمول کے مطابق گالیاں دینا اور ہنسنا شروع کردیا۔ اگرچہ اس حرکت سے وہاں آنے والے لوگوں کو بہت مزا آیا لیکن پارک انتظامیہ کو احساس ہوا کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران جب بچوں کو پارک میں داخلے کی اجازت ملے گی، اور یہ طوطے ان کے سامنے بھی گالیاں دے کر ہنسیں گے، تو بچوں پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…