جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

غلطی سے 70 ہزار ریال دوسرے اکائونٹ میں منتقل

datetime 1  اکتوبر‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی) سعودی شہری نے غلطی سے ایک انجانے شخص کے اکائونٹ میں 70 ہزار ریال منتقل کر دیئے۔ متعلقہ شخص نے 20 ہزار ریال واپس کرکے باقی رقم سے لاعلمی کا اظہار کیا۔سبق ویب سائٹ کے مطابق جس شخص کے اکائونٹ میں رقم منتقل ہوئی اس نے

اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ20 ہزار ریال اپنے بھائی کو ٹرانسفر کیے تھے۔ جہاں تک باقی ماندہ رقم کا تعلق ہے تو وہ اکاؤنٹ سے اس کی لاعلمی میں کسی کارروائی کے بغیرنکل گئے۔ نہیں پتہ کہ کس نے یہ رقم نکالی اور کسے منتقل کی۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے اکاؤنٹ میں مبینہ رقم کیسے آئی اور کیسے نکلی۔عدالت نے اکائونٹ ہولڈر کو حکم دیا کہ وہ باقی ماندہ رقم 50 ہزار بھی اسی طرح واپس کردے جس طرح اس نے بیس ہزار ریال واپس کیے ہیں کیونکہ مدعی نے یہ رقم اکاؤنٹ میں غلطی سے منتقل کی تھی۔   فیصلے کے خلاف کورٹ میں اپیل دائر کردی گئی۔ معاملہ ایک بار پھر عدالتی بنچ کے حوالے کر دیا گیا۔ اپیل کورٹ نے ترسیل زر کی حقیقت دریافت کرنے کے لیے سعودی عریبین مانیٹری اتھارٹی ساما سے رجوع کیا۔ ساما نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مدعی کا یہ دعوی درست ہے کہ اس نے 70 ہزار ریال اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے تھے۔ ریکارڈ کی جانچ  سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اے ٹی ایم کے ذریعے رقم اکاونٹ ہولڈر نے بھائی اور دیگر افراد کو منتقل کی گئی ہے۔  ایگزیکٹیو کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پانچ روز کے اندر باقی ماندہ  50 ہزار ریال واپس کی جائے ورنہ اکاؤنٹ ہولڈر کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…