امریکی صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے دوران فائرنگ، وائٹ ہائوس کو لاک ڈائون کر دیا گیا

  منگل‬‮ 11 اگست‬‮ 2020  |  18:55

واشنگٹن( آن لائن ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے دوران وائٹ ہاؤس کے باہر ایک شخص نے فائرنگ کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے دوران وائٹ ہاؤس کے باہر ایک شخص نے فائرنگ کردی جس کے بعد صدر صدر ٹرمپ نیوز بریفنگ چھوڑ کر چلے گئے تاہم تھوڑی ہی دیر بعد امریکی صدر واپس آئے اور صحافیوں کے سوالوں کےجواب دیتے ہوئے کہا کہ حالات پر قابو پایا جا چکا ہے۔امریکی سیکرٹ سروس کی جانب سے کی گئی ٹوئٹس کے مطابق امریکی سیکرٹ سروس کے ایک اہلکار کی


موجودگی میں ہونے والی فائرنگ 17ویں اسٹریٹ اور پینسلوینیا ایوینیو پر کی گئی جہاں سیکرٹ سروس گارڈز نے وائٹ ہاؤس کے باہر مسلح شخص کو گولی مار کر زخمی کیا۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کو لاک ڈاؤن کردیا گیا تھا، زخمی مشتبہ شخص کو گرفتار کرکے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاہم حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔قانون نافذ کرنے والے عہدیدار مذکورہ شخص کے مقصد کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حکام اس کی تفتیش کر رہے ہیں کہ یہ شخص کسی ذہنی بیماری میں مبتلا تو نہیں رہا۔ٹرمپ نے کورونا وائرس بریفنگ شروع ہی کی تھی کہ امریکی سیکریٹ سروس کا ایک ایجنٹ انہیں بریفنگ روم سے باہر لے گیا۔امریکی صدر چند منٹ بعد واپس آئے اور بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے باہر 'فائرنگ کی گئی تھی جس پر قابو پالیا گیا ہے'۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'واقعی فائرنگ کی گئی تھی اور کسی کو ہسپتال لے جایا گیا ہے'۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گولیاں چلائیں اور انہیں یقین ہے کہ جس شخص کو گولی مار دی گئی وہ مسلح تھا۔انہوں نے کہا کہ 'یہ مشتبہ شخص تھا جسے گولی مار دی گئی ہے'۔ٹرمپ نے کہا کہ ایجنٹ انہیں اوول آفس لے گئے تھے، اس واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کو سیکیورٹی خدشات کے تحت بند کردیا تھا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎