ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بیروت دھماکوں کی وجہ بیرونی میزائل یا بم حملہ ہو سکتا ہے، لبنانی صدر، امریکی صدر بھی اس طرح کا خدشہ ظاہر کر چکے ہیں

datetime 8  اگست‬‮  2020 |

بیروت(آن لائن) لبنان کے صدر میشال نعیم عون نے بیروت دھماکے میں غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکا بندرگاہ پر میزائل یا بم سے کیا گیا حملہ بھی ہوسکتا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر میشال نعیم عون نے بندرگاہ میں امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے میں خوفناک دھماکے پر کسی بھی عالمی ادارے سے تحقیقات کرانے کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ

دھماکا کی دو بنیادی وجہ ہوسکتی ہیں یا تو حکام کی جانب سے غفلت برتی گئی یا پھر بیرون ملک سے حملہ کیا گیا ہو۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لبنانی صدر نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ملک کا موجودہ نظام مفلوج ہوچکا ہے جس کی وجہ سے جلد فیصلے اور ان پر فوری عمل درآمد کرانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس لیے اس بوسیدہ نظام پر نظر ثانی ہونی چاہیئے۔ ہماری حکومت سسٹم میں اتفاق رائے کے ساتھ مثبت تبدیلیاں لا رہی ہے۔صدر میشال عون نے عوام سے شفاف اور سبک رفتار انصاف کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے نظام کو بہتر کررہے ہیں اور اسی نظام سے اپنے لوگوں کو انصاف دلائیں گے اس لیے دھماکے پر عالمی تحقیقات کا جواز برقرار نہیں رہتا،غیرملکی اداروں سے تحقیقات کی ضد سچائی کو کمزور کرنے کی کوشش ہوگی۔واضح رہے کہ منگل کے روز بیروت کی بندرگاہ پر امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے میں خوفناک دھماکے کے نتیجے میں 135 افراد ہلاک، 5 ہزار سے زائد زخمی، سیکڑوں عمارت مکمل طور پر تباہ اور 3 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر بھی اس طرح کے خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ دھماکوں کی وجہ بیرونی میزائل یا بم حملہ ہو سکتا ہے۔  لبنان کے صدر میشال نعیم عون نے بیروت دھماکے میں غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکا بندرگاہ پر میزائل یا بم سے کیا گیا حملہ بھی ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…