جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

میں رہو ںیانہ رہوںآر پار کشمیریوں کومتحد ہوناہوگا اگر 1964میں لال بہادر شاشتری کاانتقا ل نہ ہوا ہوتا  تو جموںو کشمیر کے حوالے سے بہت کچھ ہوا ہوتا،فاروق عبداللہ کا دعویٰ

datetime 4  اگست‬‮  2020 |

سرینگر(سائوتھ ایشین وائر )پانچ اگست 2019کو جموں وکشمیرکے حوالے سے لئے گئے فیصلے کو غیرجمہوری غیرآئینی قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ فاروق عبداللہ نے کہاکہ میں رہو ںیانہ رہوںآر پار کشمیریوں کومتحد ہوناہوگا کشمیری پنڈتوں کو وادی کاگلدستہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ 1990کشمیری پنڈتوں کوگھروںسے نکالنے کے لئے سابق ریاست کے

سابق گورنر نے اپنی خدمات انجام دی کشمیر پنڈتوں کے بغیروادی ادھہوری ہے وہ جب چائیں ا پنے گھروں کولوٹ سکتے ہیں ۔ ایک انٹر ویو میں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سرینگر بڈگام کے ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے کہاکہ اگر 1964میں بھارت کے وزیراعظم لال بہادر شاشتری کاانتقا ل نہ ہوا ہوتا اس وقت شیخ محمدعبداللہ پاکستان کے دورے پرتھے اور انہوں نے اپنادورہ مختصر کرکے نئی دہلی لوٹناپڑا اگرایسا نہ ہوا ہوتا تو جموںو کشمیرکے حوالے سے بہت کچھ ہوا ہوتا ۔انٹر ویو کے دوران نیشنل کانفرنس کے صدرنے پانچ اگست 2019کو مرکزی حکومت کی جا نب سے لئے گئے فیصلے پرناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی درجہ واپس دلانے کی خاطرجموں وکشمیرکے عوام پرامن طریقے سے اپنی جدو جہد جاری رکھیں گی اور نیشنل کانفرنس پہلے ہی اپنایہ عہددہرا چکی ہے کہ خصوصی درجہ واپس لانے تک ہماری جدو جہدجاری رہے گی ۔ساوتھ ایشین وائرکے مطابق ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیرکا مسئلہ تلخ حقیقت ہے اور حقیقت سے آ نکھیں چرانا کوئی سمجھداری نہیں ہے اور دنیا یہ بات تسلیم کر چکی ہے کہ جموں وکشمیرکے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور اس ناانصافی کوختم کرنے کے لئے موثراقدامات اٹھانے کی اشدضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں رہوں یانہ رہوں آرپارکشمیریوں کومتحد رہناہوگا تب جاکروہ اپنی حیثیت کومنوا پائے گے ۔کشمیری پنڈتوں کے بارے میں پوچھے گے سوال کے جواب میں سابق وزیراعلی نے کہاکہ کشمیری پنڈت وادی کشمیرکاگلدستہ ہے ان کے بغیرکشمیرادھہوری ہے ہم ان کی واپسی چاہتے ہیں اور کشمیر ی پندڈتوں کوپھر سے بسانے کے لئے بیانو ں کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرور ت ہے ۔1990میں کشمیری پنڈتوں کے واد ی چھوڑ جانے کے پیچھے عسکریت پسندوں کے ہاتھ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں سوال کا

جواب دیتے ہوئے سابق وزیراعلی نے کہا کہ سابق ریاست کے سابق گورنر جگموہن کا اس میں اہم ہاتھ ہے ۔اور اس معاملے کی سپریم کورٹ آ ف انڈیا کے ذریعے تحقیقات کی جانی چاہئے ۔سابق وزیراعلی نے کہا کہ وادی کشمیرکے لوگوں نے کب کشمیری پنڈتوں کی واپسی کامطالبہ نہیں کیامرکزی حکومت کی جا نب سے 5اگست کو لئے گے فیصلے پراپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کہا ں ہے

تعمیرترقی کیا ملی ٹینسی کم ہوئی کیاجموں وکشمیرکے لوگ پچھلے ایک سال سے دردر کی ٹھوکرے نہیں کھارہے ہیں۔ انہوں نے آر پار کشمیریوں سے تلقین کی کی وہ دنیاکے مہذب قوموں میں سے ایک ہے انہیں متحد ہوناہوگا تاکہ انہیں عذاب سے نجات مل سکے۔ گپکار اعلانیہ پر قائم دائم رہنے کا عندیہ دیتے ہوئے سابق وزیراعلی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس خصوصی درجہ واپس لینے کی خاطردوسری تمام ہم خیال پارٹیوں کاتعاون حاصل کرے اپنی جدو جہد کوآخری وقت تک جاری رہے گی



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…