اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا کی عالمی وبا ء کے معاشی اثرات کے باعث 2020 کے اواخرتک کتنے کروڑ بچے غرب کا شکار ہو سکتے ہیں ؟ رپورٹ میں انتہائی افسوسناک انکشاف

datetime 29  مئی‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )سیو دی چلڈرن اور اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف)کی مشترکہ تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا ء کے معاشی اثرات کے باعث 2020 کے اواخر تک 8 کروڑ 60 لاکھ بچے غربت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں اداروں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اس سے دنیا بھر میں غربت سے متاثرہ بچوں کی

مجموعی تعداد 67 کروڑ 20 لاکھ ہوجائے گی جو گزشتہ برس سے 15 فیصد زیادہ ہوگی۔اس مجموعی تعداد پر مشتمل تقریبا دو تہائی بچے ذیلی صحارائی افریقہ (سب صحارن افریقہ)اور جنوبی ایشیا میں مقیم ہیں۔عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے تخمینے اور 100 ممالک کی آبادی کے اعداد و شمار پرمبنی تحقیق کے مطابق عالمی وبا سے ہونے والا یہ اضافہ بنیادی طور پر یورپ اور وسطی ایشیا میں ہوگا۔یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فور کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ خاندانوں میں مالی مشکلات کی سطح اور گہرائی سے بچوں میں غربت اور بنیادی ضروریات سے محرومی میں کمی لانے سے متعلق کئی سالوں کی کوششوں کو خطرہ ہے۔سیو دی چلڈرن کی سربراہ اینگر ایشنگ نے کہا کہ فوری اور فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے ہم غریب ترین ممالک اور انتہائی کمزور بچوں کو عالمی وبا سے درپیش خطرات کو روک سکتے اور ان سے بچا سکتے ہیں۔انہوں نے تنبیہ کی کہ وہ مختصر عرصے کے قحط اور غذائی قلت کے شدید خطرے سے بھی دوچار ہیں جو ممکنہ طور پر ان کی پوری زندگی کا متاثر کرے گا۔دونوں اداروں نے عالمی وبا ءکے اثرات کو محدود کرنے کے لیے حکومتوں سے فوری طور پر سماجی تحفظ کے نظام اور اسکول فیڈنگ میں تیزی سے توسیع کا مطالبہ کیا۔انہوں نے خاندانوں سے تعاون کے لیے حکومتوں پر سماجی تحفظ، مالی پالیسیوں، روزگار اور لیبر مارکیٹ میں مداخلت سے سرمایہ کاری پر زور دیا۔اس میں معیاری علاج اور دیگر سہولیات تک رسائی میں توسیع اور خاندان دوست پالیسیوں میں سرمایہ کاری جیسا کہ تنخواہ کی ادائیگی چھٹیاں اور چائلڈ کیئر شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…