جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کا خوف، کمپنیوں نے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت جاری کر دی، حیرت انگیز قدم اٹھا لیاگیا

datetime 5  مارچ‬‮  2020 |

ابوظہبی (این این آئی) کرونا وائرس کے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر خلیجی ممالک کی کاروباری کمپنیوں نے ایک نیا ورک پلان تیار کرنے پر کام شروع کیا ہے جس کے تحت ایک تہائی کمپنیوں کے مینجرز اور دیگر ملازمین دفافتر اور ورکنگ سائٹس کے بجائے اپنے گھروں میں رہ کام کریں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ خلیج میں کام کرنے والی کاروباری کمپنیوں کو اپنے کام کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر مجبور کیا ۔

ایک تہائی کمپنیوں کے منیجرز نے اپنے آدھے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کرنے کی منصوبہ بندی شروع کی ہے۔ اس پروگرام پر مجموعی طورپر 1600 خلیجی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ کرونا کے باعث خلیج میں کام کرنے والی 35 فیصد کمپنیوں کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔مہلک کرونا کے پھیلاؤ سے بچنے کے لئے 6 فیصد کے بارے میں ابھی گھر سے ہی کام کا منصوبہ شروع کردیا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں مزید پانچ اور اس کے بعد مزید 12 فی صد ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی تاکید کی جائیگی۔سروے میں حصہ لینے والے 54 فی صد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ ان کا ابھی تک دور سے کام کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے جبکہ ان کی 11 فیصد کمپنیوں کا کہنا تھا کہ وہ یقینی طور پر ملازمین کے گھر سے کام کرنے کے امکان پر غور نہیں کریں گی۔خطے کے ممالک میں بحرین میں 38 فیصد کمپنیوں میں ریموٹ ایکشن پلان کی سب سے زیادہ شرح ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت میں 37 فی صد کمپنیوں کا کہناتھا کہ وہ ملازمین کو کچھ عرصے کے لیے گھر سے کام کرنے پر زور دیں گی۔ تیس فی صد کمپنیوں نے گھر سے کام کرنے کے منصوبوں کا اشارہ کیا جبکہ سلطنت عمان کی 18 فی صد کمپنیوں نے ملازمین کو گھروں میں رکھنے کی حمایت کی ہے۔چونکہ خطے کی بیشتر کمپنیوں کے لیے ملازمین کا گھروں سے کام کرنا ایک نیا تصور ہے۔ اس سروے میں پتا چلا ہے کہ ان میں سے بیشتر ملازمین کو گھروں میں تعینات کی تنظیمی اور تکنیکی پہلوئوں سے تیاری کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ملٹی نیشنلز کمپنیوں نے سروے کیا جس میں ملازمین کی ایک بڑی تعداد گھروں سے کام کرنے پر رضامند دکھائی دیتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…