جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

امریکی منصوبہ مسترد ،مہاتیر محمد نے فلسطینیوں کی حمایت میں زبردست پیغام جاری کردیا‎

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

کوالالمپور(این این آئی)ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل کے ساتھ مل کر تیار کردہ نام نہاد مشرق وسطی امن منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔بین الاقوامی پارلیمانی القدس پلیٹ فارم کی تیسری کانفرس ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں شروع ہو گئی ہے۔ پہلی دو ترکی میں ہونے والی ان کانفرسوں کے سلسلے میں امسال دنیا بھر

سے 500 سیاستدان شرکت کر رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرنے والے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اسرائیل کے ہمراہ تیار کردہ نام نہاد مشرق وسطی امن منصوبہ خود مختار ریاستِ فلسطین کے قیام میں کسی قسم کی کوئی معاونت فراہم نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا تجویز کو ناقابلِ قبول اور غیر منصفانہ سمجھتا ہے۔ موجودہ حالات کو مزید بگاڑنے پر مبنی مذکورہ منصوبہ مقدس شہر القدس کو اسرائیل کو طلائی پلیٹ میں پیش کرنے کے مترادف ہے۔‎منصوبے کے خطے میں مزید کشیدگی اور جھڑپوں کا ماحول پیدا کرنے کا دفاع کرنے والے مہاتیر محمد نے مزید کہا تھا کہ یہ منصوبہ اربوں انسانوں کو اشتعال دلائے گا، اسے یکطرفہ طور پر وضع کیا گیا ہے اور دیگر فریق فلسطین کی رائے تک نہیں لی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کو غیر اہم بنانے کی اجازت نہ دینا اور اسے پس پردہ ڈالنے کی کوششوں کو ناکام بنانا عالمی برادری کا فریضہ ہے۔ ملائیشیا ہمیشہ فلسطینیوں کی حمایت کو جاری رکھے گا۔ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے عالمی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں اور ان پر صحیح طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا گیا ، عالمی رائے عامل کو مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے مزید کوششیں صرف کرنی چاہییں۔ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بیان میرے ضمیر کی آواز ہے، نہ ہی بیان سے پیچھے ہٹوں گا اور نہ واپس لوں گیا۔مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ضمیر کے مطابق بات کرتے ہیں، ہم نہ اپنا بیان بدلتے ہیں اور نہ ہی واپس لیتے ہیں، مقبوضہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی حمایت حاصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ صرف پاکستان اور بھارت ہی کو نہیں بلکہ امریکا سمیت تمام ممالک کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرنا چاہیے، ورنہ اقوام متحدہ کا کیا فائدہ ہوگا۔ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے اب تک کسی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا، تجارت دوطرفہ ہوتی ہے، کوئی ایسا قدم اٹھانا غلط ہے جو تجارتی جنگ کی طرف لے جائے۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…