جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

شہریت سے متعلق متنازعہ قانون پر بھارتی پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ، آرائی مظاہرین پر گولی چلانے کی تجویز دینے والے نائب وزیرخزانہ کیخلاف نعرے بازی

datetime 4  فروری‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے شہریت کے ترمیمی قانون کی مخالفت اور پر تشدد واقعات کی مذمت پر زبردست ہنگامے کے بعد پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔بھارتی ٹی وی کے مطابق لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین با غ میں پرامن مظاہرین ملک کے آئین کو بچانے نکلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بھارت کے آئین کو ہاتھ میں لے کر احتجاج کررہے ہیں، قومی ترانہ گارہے ہیں، لیکن ان پر گولیاں چلائی جارہی ہیں۔ بھارت کے لوگوں کو بے دردی سے مارا جارہا ہے۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے لوک سبھا میں کہا کہ ہم سب جامعہ کے بچوں کے ساتھ ہیں۔ یہ حکومت بچوں پرظلم کررہی ہے۔ یہ جانتے ہیں کہ ایک بچے کی آنکھ چلی گئی، بیٹیوں کو مار رہے ہیں۔ لیکن انہیں کوئی شرم نہیں آتی۔اس سے قبل بی جے پی رہنما اور نائب وزیر خزانہ انوراگ سنگھ ٹھاکر بجٹ کے متعلق جیسے ہی ایک سوال کا جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو ان کے خلاف نعرے لگنے شروع ہو گئے،نوراگ ٹھاکر شرم کرو، شرم کرو۔گولی مارنا بند کرو، دیش کو توڑنا بند کرو۔انوراگ ٹھاکر نے 27جنوری کو دہلی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران ملک کے غداروں کو گولی مارو کے نعرے لگوائے تھے، جس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف دھرنے پر بیٹھے مظاہرین پر فائرنگ کے کم از کم تین واقعات پیش آچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…