جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ترکی کا لیبیا میں لڑنے کے لیے 4700 شامیوں کو بھرتی کرنے کا انکشاف

datetime 2  فروری‬‮  2020 |

دمشق (این این آئی)شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی کی جانب سے لیبیا میں لڑائی میں شرکت کے لیے بھیجے جانے والے شامی اجرتی جنگجوؤں کی تعداد 2900 کے قریب ہو چکی ہے۔ ان کے علاوہ 1800 سے

زیادہ دیگر اجرتی جنگجو تربیت حاصل کرنے کے لیے ترکی کے عسکری کیمپوں میں پہنچے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق المرصد نے بتایاکہ طرابلس میں عسکری کارروائیوں میں مارے جانے والے شامی اجرتی جنگجوؤں کی تعداد 72 ہو چکی ہے۔مذکورہ جنگجو طرابلس کے جنوب میں صلاح الدین اور طرابلس ہوائی اڈے کے نزدیک الرملہ کے علاقوں کے علاوہ الہضبہ پروجیکٹ کے مقام پر جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوئے۔اسی طرح المرصد نے یہ تصدیق بھی کی کہ ترکی کی جانب سے منتقل کیے جانے والی شامی جنگجؤوں میں سے 64 افراد لیبیا کی سرزمین پر پہنچنے کے بعد یورپ روانہ ہو گئے۔المرصد نے باور کرایاکہ طرابلس جانے کے خواہش مند شامیوں کے ناموں کے اندراج کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں عفرین اور شام کے شمال مشرقی علاقے میں بڑے پیمانے پر بھرتیاں ہو رہی ہیں۔المرصد کے مطابق ایسے وقت میں جب کہ بشار حکومت کی فورسز روس کی سپورٹ سے حلب اور ادلب میں فوجی کارروائیاں کر رہی ہیں،،، شامی اجرتی جنگجوؤں کی لیبیا منتقلی نے بڑے پیمانے پر عوام کا غصہ اور ناراضی بھڑکا دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…