جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

20 سال تک بیٹی نہ ملی ،91 سالہ ضعیف کشمیری دنیا سے کوچ کر گئے

datetime 2  فروری‬‮  2020 |

جموں ( آن لائن)مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئی والدین اپنے جگرپاروں کے جدائی کے غم میں اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔ضلع ڈوڈہ کے علاقے دھار کاستی گڑھ سے تعلق رکھنے والے 91برس کے غلام محمد کا انتقال ہو گیا ہے جن کی 17سالہ FAکی طالب علم جوان بیٹی ممتازہ کو بھارتی فوجی اہلکاروں نے 2000 میں اغوا کر لیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 20سال قبل سردی کے موسم میں رات کے اندھیرے میں گھر میں داخل ہوکر جواں سال بیٹی کو گھسیٹ کر گھر کے باہر نکالاگیااور فوجی اہلکار ان کے گھر والوں کو گھر میں بند کرکے ممتازہ کو اپنے ساتھ زبردستی لے گئے۔ 20سال تک بیٹی کی بازیابی اور انصاف کیلئے غلام محمد نے کئی مرتبہ قابض انتظامیہ و دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے دروازے پر دستک دی۔قابض انتظامیہ کی طرف سے اسے خاموش رہنے پر چھ لاکھ روپے کی پیش کش بھی کی جو لاپتہ ممتازہ کے والد نے ٹھکرادی۔ ممتازہ کی ایک بہن فریدہ نے یہ منظر اپنی آنکھوں دیکھا تھا جب ممتازہ کو گھر سے بھارتی فوجی بے رحمی سے زبردستی گھسیٹ کر لے گئے تھے۔19سالہ فریدہ بھی اپنی چھوٹی بہن کے غم میں زندگی کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایسی کئی خواتین ہیں۔جو بھارتی قابض فوجیوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ان کے والدین اور بھائی بہیں ان کے جدائی کے غم میں روز جیتے اور روز مرتے ہیں۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر دنیا کا وہ بدنصیب خطہ ہے جہاں نوجوان لڑکیوں کو اہل خانہ کے سامنے اغوا کیا جاتاہے۔ راہ چلتی مسلم طالبات کو ہراساں و پریشان کیا جاتا ہے ۔درندہ صفت بھارتی فوجی اہلکار مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے طول و عرض میں دندناتے پھرتے ہیں۔اور معصوم شہریوں کو ہراساں کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…