جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کشمیریوں کو پیسوں کی نہیں آزادی اور انسانی حقوق کی بحالی کی ضرورت ہے، سابق بھارتی وزیر خرانہ کی کھری کھری باتیں

datetime 2  فروری‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کے سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو پیسوں کی نہیں بلکہ آزادی اور ان کے انسانی حقوق کی بحالی کی ضرورت ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پی چدمبرم نے یہ بات جموں و کشمیر اور لداخ کے لئے بجٹ میں رقم مختص کرنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے کے رد عمل میں نئی دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر دفاتر پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام کو آزادی اور اپنے انسانی حقوق کی بحالی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ صرف ایک آزاد معاشرہ اور آزاد ماحول میں سانس لینے والے افراد ترقی کے ثمرات سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور ترقی کے عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔چدمبرم نے کہاکہ اگرحکومت سمجھتی ہے کہ وہ پیسوں کے بدلے آزادی چھین سکتی ہے توہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام کشمیری عوام کو راضی کرنے کی ناکام اور منافقانہ کوشش ہے اوروہ کامیاب نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری آزادی چاہتے ہیں اور 5 اگست کو وادی کشمیر سے آزادی چھین لی گئی ہے اور لوگ اب بھی بغیر کسی الزام کے حراست میں ہیں۔ دنیا اس حقیقت کا نوٹس لے رہی ہے کہ بھارت نے 6 ماہ سے وادی کشمیر کے لوگوں کی آزادی سلب کر رکھی ہے۔ سابق بھارتی وزیر نے کہا کہ حکومت کو سب سے پہلے کشمیری عوام کی آزادی بحال کرنی چاہیے اور پھر پیسوںاور شاعری کی بات کرنی چاہیے۔پی چدمبرم کی طرف سے شاعری کا حوالہ کشمیری زبان میںاس نظم کی طر ف اشارہ تھاجوسیتارامن نے بجٹ تقریر کے دوران پڑھی تھی ۔اس سے قبل بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتھارمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لئے30,757 کروڑاورلداخ کے لئے5,958 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…