منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ عبداللہ بن ناصر بن خلیفہ آل ثانی کا استعفیٰ منظور قطرکے  نئے وزیراعظم کا اعلان کردیا گیا

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

دوحہ (این این آئی)قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے شیخ خالد بن خلیفہ بن عبدالعزیز آل ثانی کو وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کی ذمے داری سونپی ہے۔ اس سے قبل امیرِ قطر نے وزیراعظم شیخ عبداللہ بن ناصر بن خلیفہ آل ثانی کا استعفاء  منظور کر لیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق خالد بن خلیفہ بن عبد العزیز آل ثانی نے 11 نومبر 2014 کو شاہی دیوان کے سربراہ کا منصب سنبھالا تھا۔

اس سے قبل وہ شیخ تمیم کے اقتدار سنبھالنے کے وقت سے اْن کے دفتر کے ڈائریکٹر کے عہدے پر اپنی ذمے داریاں انجام دے رہے تھے۔خالد بن خلیفہ 1968 میں دوحہ میں پیدا ہوئے اور انٹرمیڈیٹ تک تعلیم قطری دارالحکومت میں ہی حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے 1993 میں امریکا سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجویشن کی۔خالد بن خلیفہ نے عملی کیرئر کی ابتدا قطر ایل پی جی لمیٹڈ کمپنی سے کی۔ وہ 2002 تک وہاں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد شیخ خالد وزیراعظم کے نائب اول کے دفتر میں ذمے داریاں انجام دینے کے لیے منتقل کر دیے گئے۔ یہاں انہوں نے 2002 سے 2006 تک کام کیا۔مارچ 2006 میں شیخ خالد اْس وقت کے ولی عہد تمیم بن حمد کے دفتر میں شاہی بیورو سے منسلک ہو گئے۔ انہیں 11 جولائی 2006 کو شیخ تمیم کے پرسنل سکریٹری کے دفتر کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں 9 جنوری 2007 کو انہوں نے اس وقت کے ولی عہد شیخ تمیم بن حمد کے دفتر کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…